اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 75
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 75 فرماتے ہوں، اور پھر بھی صحابہ اس پیغام کی حفاظت سے غافل ہو جائیں ؟ پس اس شان کے حافظہ کے ساتھ اس اعلیٰ درجہ کی امانت داری کے خلق کے حامل لوگ قرآن کو ایسی حالت میں حفظ کر رہے ہیں کہ انتہائی درجہ احساس ذمہ داری بھی ہے اور دل میں والہانہ عشق بھی، اور پھر یہ پیغام تحریری صورت میں بھی موجود ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانثار صحابہ ہمہ وقت حفاظت اور نگرانی فرمارہے ہیں، تو دانستہ یا نادانستہ تبدیلی کس طرح ممکن ہے؟ پھر یہ بھی دیکھیے کہ روایات تو اس کثرت سے سنائی نہ جاتی تھیں جس کثرت سے قرآن کریم کی درس و تدریس اور تلاوت ہوتی تھی۔پس قرآن کریم کا کوئی بھی حرف کسی بھی صورت میں بھول جاتا ، یہ بات بالکل ناممکن تھی۔پھر اس پہلو سے بھی دیکھیے کہ مقوقس کے خط کے راوی چند ایک ہیں اور وہ خط صحابہ نے اپنے پاس تحریری حالت میں بھی محفوظ نہیں کیا تھا اور سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا جب یہ خط کتب احادیث میں درج کیا گیا۔پھر بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تو پھر قرآن کریم جو تحریری حالت میں موجود تھا اور تمام تر صحابہ جس کی صحت پر گواہ تھے اور بلا مبالغہ سینکڑوں حفاظ موجود تھے اس میں کیسے کوئی بھول ہوسکتی ہے۔اسی طرح یہ کہنا بھی جہالت کی حد ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کاتبین نے کوئی آیت غلط طور پر لکھ دی ہو۔کتابت قرآن کے بیان میں تفصیل سے درج کیا جاچکا ہے کہ کتابت کا انتظام بھی ایسا وسیع اور اعلیٰ درجہ کا تھا کہ کسی ایسی بھول چوک کی گنجائش تھی ہی نہیں جو باقی صحابہ کی نظروں سے اوجھل رہ جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی علم نہ ہو۔پھر ہزاروں صحابہ کا حفظ کتابت پر نگران تھا دوبارہ انہی دلائل کو دہرا نا تکرار بے جا اور طوالت کا باعث ہوگا۔اختلاف مذہب کے باوجود اس بے نظیر حفاظت کے بارہ میں محققین گواہیاں دیتے آئے ہیں۔ویلیم میور بار بار مختلف الفاظ میں اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے۔کہتا ہے: "There is probably no other book in the world which has remained twelve centuries with so pure a text" (William Muir, Life of Mohamet, London, 1894, Vol۔1, Introduction) قرآن کریم کے علاوہ) شائد دُنیا کے پردے پر اور کوئی ایسی کتاب نہیں جس کا متن بارہ سوسال گزرنے کے باوجود اپنی اصل حالت میں قائم ہو۔پھر لکھتا ہے: "There is otherwise every security internal and external that we possess the text which Muhammad forth and used۔" himself gave (William Muir, Life of Mohamet, London, 1894, Pg:561) ترجمہ۔اس کے علاوہ ہمارے پاس ہر ایک قسم کی ضمانت موجود ہے۔اندرونی شہادت کی