اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 45
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 45 علیہ وسلم کس قدر گہری نظر سے حفاظت قرآن کا اہتمام فرماتے۔اس طرح تیزی سے پڑھنے سے معانی کی طرف بہت کم توجہ ہوتی ہے۔اس لیے اس طرح تلاوت کرنی چاہیے کہ معانی بھی سمجھ آرہے ہوں۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام آداب تلاوت کے ضمن میں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں مگر طوطے کی طرح یونہی بغیر سوچے سمجھے چلے جاتے ہیں۔جیسے ایک پنڈت اپنی پوتھی کو اندھا دھند پڑھتا جاتا ہے۔نہ خود سمجھتا ہے اور نہ سننے والوں کو پتہ لگتا ہے۔اسی طرح پر قرآن شریف کی تلاوت کا طریق صرف یہ رہ گیا ہے کہ دو چار سپارے پڑھ لئے اور کچھ معلوم نہیں کہ کیا پڑھا۔زیادہ سے زیادہ یہ کہ سر لگا کر پڑھ لیا اور ق اور ع کو پورے طور پر ادا کر دیا۔قرآن شریف کو عمدہ طور پر اور خوش الحانی سے پڑھنا بھی ایک اچھی بات ہے۔مگر قرآن شریف کی تلاوت کی اصل غرض تو یہ ہے کہ اس کے حقائق اور معارف پر اطلاع ملے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 284 285) اسی طرح تلاوت قرآن کریم کا ایک اور ادب یہ سکھلایا : اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی تعریف میں فرماتا ہے۔هُدى لِلْمُتَّقِين (البقره:3) قرآن بھی ان لوگوں کے لئے ہدایت کا موجب ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کریں۔ابتدا میں قرآن کے دیکھنے والوں کا تقویٰ یہ ہے کہ جہالت اور حسد اور بخل سے قرآن شریف کو نہ دیکھیں بلکہ نور قلب کا تقوی ساتھ لے کر صدق نیت سے قرآن شریف کو پڑھیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 536) اسلامی عبادات کے ساتھ خصوصی طور پر قرآن کریم کی تلاوت کو بہت مضبوطی سے باندھ دیا گیا ہے۔نماز دس برس کی عمر سے ہر مسلمان پر دن میں پانچ مرتبہ پڑھنا فرض ہے اور ہر نماز میں قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھنا ضروری ہے۔اس لیے ہر مسلمان کو قرآن کریم کا کچھ نہ کچھ حصہ یاد کرنا ہی پڑتا ہے اور امام کی تلاوت پیچھے صفوں میں کھڑے نمازی غور سے سنتے اور کسی بھی غلطی کی صورت میں اصلاح کرواتے ہیں۔نیز اس طرح بار بار تلاوت اور بار بار سننے سے مختلف لوگوں کو قرآن کریم کے مختلف حصے از بر ہو جاتے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نمازوں میں قرآن کریم کی لمبی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک روایت ملتی ہے کہ ایک دفعہ آپ نے نماز تہجد میں قرآن شریف کی پہلی پانچ سورتوں کی بالترتیب تلاوت فرمائی جو مجموعی طور پر قرآن کریم کے پانچویں حصہ کے برابر ہیں۔(ابو داؤد کتاب الصلوة باب ما يقول الرجل فی رکوعه) اسی طرح بخاری میں ذکر ملتا ہے کہ لمبے لمبے قیام کرنے کی وجہ سے آپ کے پاؤں متورم