اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 44 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 44

الذكر المحفوظ 44 حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو۔پھر یہ بھی احادیث ملتی ہیں کہ قرآن کریم کے حکم کی تعمیل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بہت تاکید کرتے تھے کہ تلاوت توجہ سے سنی جائے۔حضرت امام بخاری نے اپنی صحیح میں کتاب فضائل القرآن میں قرآن کریم غور سے سننے کے بارہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نصائح اور اسوہ کے بارہ میں روایات کا ایک باب باندھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس ضمن میں کس قدر تاکید فرماتے تھے اور صرف صحیح بخاری ہی نہیں بلکہ قریباً تمام کتب حدیث میں ملتے جلتے مضامین کی احادیث کثرت سے ملتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ان نصائح پر صحابہ نے اپنی فطری اطاعت کی عادت کے مطابق والہانہ لبیک کہا۔تعلیم القرآن کے موضوع کے تحت اس بارہ میں روایات درج کی جا چکی ہیں کہ کس طرح بہت سے صحابہ نے قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کو ہی اپنا شغل بنالیا اور دن رات اس کی تلاوت میں مشغول رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ صحابہ کے حق میں گواہی دیتے ہوئے فرماتا ہے: الَّذِينَ آتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَ مَنْ يَكْفُرُ بِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَسِرُونَ (البقرة:122) وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی وہ اس کی ویسی ہی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جو ( در حقیقت ) اس پر ایمان لاتے ہیں۔اور جو کوئی بھی اس کا انکار کرے پس وہی ہیں جو گھاٹا پانے والے ہیں چنانچہ روایات میں ہے کہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کتنی دیر میں قرآن کریم کا مکمل دور کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کی کہ ایک رات میں۔آپ نے فرمایا: اقرا الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ قُلْتُ إِنِّى أَجِدُ قُوَّةً قَالَ فَاقْرَأَهُ فِي سَبْعِ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَالِكَ (بخاری کتاب فضائل القرآن باب في كم يقرا القرآن) ایک مہینہ میں قرآن کریم کا دور مکمل کیا کرومیں نے عرض کی کہ مجھے اس سے زیادہ کی تو فیق ہے۔آپ نے فرمایا کہ پھر ایک ہفتہ میں مکمل کر لیا کرو لیکن اس سے جلدی نہیں۔اس روایت سے ایک تو یہ علم ہوتا ہے کہ صحابہ کو قرآن کریم سے کس درجہ عشق تھا اور وہ کس طرح دن رات اس کی تلاوت کرنا چاہتے تھے۔دوسری جانب حفاظت قرآن کے حوالہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ