اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 39
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 39۔ہے۔کثرت سے تلاوت کرنے والا حافظ نہ سہی مگر ایک نیم حافظ ضرور بن جاتا ہے اور قرآن کریم کے متن سے اسقدر مانوس ہو جاتا ہے جب اس کے سامنے تلاوت کی جائے تو غلطی کی صورت میں فوراً درستی کرا دیتا ہے۔گو زبانی اسے مکمل قرآن نہ بھی یاد ہو، وہ چھوٹی سی غلطی پر بھی فوراً مطلع ہو جاتا ہے اور اصلاح کروا دیتا ہے۔تلاوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ امت کے دلوں میں اس کی اہمیت جاگزین کرنے کا بیڑا بھی اللہ تعالیٰ خود اُٹھاتا ہے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طاقت میں تھا ہی نہیں کہ دلوں میں اتنی محبت پیدا کر دیں جو آئندہ زمانوں پر بھی محیط ہو اور کسی دور میں بھی امت کلام اللہ کی تلاوت کے فریضہ سے غافل نہ ہو۔بہت بھی ہوتا تو یہی کہ آپ کی خوشنودی کی خاطر لوگ آپ کے سامنے تو تلاوت کرلیا کرتے مگر جب آپ سامنے نہ ہوتے یا جب آپ کی وفات ہو جاتی تو پھر یہ سلسلہ ختم ہو جاتا۔مگر خدا تعالیٰ نے تلاوت قرآن کو زندہ رکھنا اپنی ذمہ داری قرار دیا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ قُرْآنَهُ (القيامة :18) یعنی اس قرآن کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہماری ذمہ داری ہے۔اس آیت سے تلاوت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جمع قرآن کے ساتھ اس کو رکھا ہے۔قرآن کریم با قاعدہ تلاوت کے آداب سکھاتا ہے۔مثلاً یہ کہ تلاوت کرنے سے قبل ظاہری اور باطنی پاکیزگی شرط ہے۔فرمایا: لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُون (الواقعة : 80) ترجمہ: کوئی اسے چھو نہیں سکتا سوائے پاک کیے ہوئے لوگوں کے۔پھر یہ کہ تلاوت سے قبل خدا تعالیٰ سے شیطانی وساوس سے بچنے کی دعا کر لیا کرو: فَإِذَاقَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ (النحل: 99) ترجمہ: پس جب تو قرآن پڑھے تو دھتکارے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام استعاذہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اعلم يا طالب العرفان انه من احل نفسه محل تلاوة الفاتحة و الفرقان فعليه ان يستعيذ من الشيطن كما جاء في القرآن فان الشيطن قـديـدخـل حمـى الحضرة كالسارقين و يـدخــل الـحـرم العاصم للمعصومين - فاراد الله ان ينجى عباده من صول الخناس عند قراءة الفاتحة وكلام رب الناس ويد فعه بحربته منه و يضع الفاس في الراس