اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 32
الذكر المحفوظ 32 وَسَلَّمَ قَدْ أَقْرَأَنِيهَا عَلَى غَيْرِ مَا قَرَأْتَ فَانْطَلَقْتُ بِهِ أَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتَ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ بِسُورَةِ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوف لَمْ تُقْرتْنيهَا فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلْهُ اقْرَأْ يَا هِشَامُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ اقْرَأْ يَا عُمَرُ فَقَرَأْتُ الْقِرَاءَةَ الَّتِي أَقْرَأَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَة أَحْرُفِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ (بخاری کتاب فضائل القرآن باب انزل القرآن على سبعة حرف) حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں ایک صحابی ہشام بن حکیم بن حزام کو سورۃ الفرقان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔میں نے غور سے سُنا تو معلوم ہوا کہ وہ کسی ایسے انداز میں پڑھ رہے ہیں جس انداز میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کبھی مجھے نہیں پڑھایا۔پس میں ان کی نماز مکمل ہونے کا انتظار کرتارہا اور مجھے ان کی نماز کے اختتام تک بہت صبر سے بیٹھنا پڑا۔جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کو ان کی چادر سے پکڑ لیا اور پوچھا کہ جو سورۃ میں نے ابھی تجھ سے سنی ہے یہ تجھے کس نے پڑھائی ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے۔میں نے کہا تم غلط کہتے ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی پڑھائی ہے اور وہ اس طرح نہیں ہے۔پس میں انہیں لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں نے انہیں قرآن کریم اس انداز میں پڑھتے ہوئے سُنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھایا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور کہا اے ہشام پڑھو! انہوں نے تلاوت کی۔پھر آپ نے مجھے پڑھنے کا ارشاد فرمایا پس میں نے اسی طرح تلاوت کی جس طرح میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سیکھی تھی۔اس پر رسول کریم نے فرمایا کہ ( یہ سورت ) اس طرح بھی نازل ہوئی ہے۔پھر فرمانے لگے کہ قرآن کریم سات حروف میں نازل ہوا ہے پس جیسے آسانی محسوس کرو، پڑھ لیا کرو۔ذیل میں نمونہ کے طور پر چند روایات درج کی جارہی ہیں۔جن سے علم ہوتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کس درجہ تاکید کے ساتھ صحابہ کو حفظ قرآن کی تلقین کیا کرتے تھے۔