اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 396 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 396

الذكر المحفوظ 396 دلوں میں قائم اور بحال نہ کیا۔غرض یہ آیت بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ کوئی حصہ تعلیم قرآن کا بر باد اور ضائع نہیں ہوگا اور جس طرح روز اول سے اس کا پودا دلوں میں جمایا گیا۔یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔“ شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 351) ي حديث (إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِئَةٍ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا - ناقل) إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَوَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُون کی شرح ہے۔صدی ایک عام آدمی کی عمر ہوتی ہے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا کہ سوسال بعد کوئی نہ رہے گا۔جیسے صدی جسم کو مارتی ہے اسی طرح ایک روحانی موت بھی واقع ہوتی ہے۔اس لیے صدی کے بعد ایک نئی ذریت پیدا ہو جاتی ہے۔جیسے اناج کے کھیت۔اب دیکھتے ہیں کہ ہرے بھرے ہیں ایک وقت میں بالکل خشک ہوں گے پھر نئے سر سے پیدا ہو جائیں گے اس طرح پر ایک سلسلہ جاری رہتا ہے۔پہلے اکا برسوسال کے اندر فوت ہو جاتے ہیں اس لیے خدا تعالیٰ ہر صدی پر نیا انتظام کر دیتا ہے جیسا رزق کا سامان کرتا ہے۔پس قرآن کی حمایت کے ساتھ یہ حدیث تواتر کا حکم رکھتی ہے۔قرآن شریف کی تعلیم کا محرف مبدل ہونا اس لیے محال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُون۔(سورة الحجر الحجز ونمبر ۱۴) یعنی اس کتاب کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ رہیں گے۔سو تیرہ سو برس سے اس پیشینگوئی کی صداقت ثابت ہو رہی ہے۔اب تک قرآن شریف میں پہلی کتابوں کی طرح کوئی مشر کا نہ تعلیم ملنے نہیں پائی اور آئندہ بھی عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ اس میں کسی نوع کی مشر کا نہ تعلیم مخلوط ہو سکے۔کیونکہ لاکھوں مسلمان اس کے حافظ ہیں۔ہزار ہا اس کی تفسیریں ہیں۔پانچ وقت اس کی آیات نمازوں میں پڑھی جاتی ہیں۔ہر روز اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔اسی طرح تمام ملکوں میں اس کا پھیل جانا۔کروڑ ہا نسخے اس کے دنیا میں موجود ہونا۔ہر یک قوم کا اس کی تعلیم سے مطلع ہو جانا۔یہ سب امور ایسے ہیں کہ جن کے لحاظ سے عقل اس بات پر قطع واجب کرتی ہے کہ آئندہ بھی کسی نوع کا تغیر اور تبدل قرآن شریف میں واقع ہونا تمنع اور محال ہے۔“ (براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اول صہ 102 حاشیہ نمبر 9 ایڈیشن اول صہ 111 ) اسی طرح فرماتے ہیں: پھر بعض اور آیات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور خداوند کریم نے یہی ارادہ فرمایا ہے که روحانی معلم جو انبیاء کے وارث ہیں ہمیشہ ہوتے رہیں اور وہ یہ ہیں۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ