اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 386
الذكر المحفوظ 386 مگر جب منسوخ کرتا ہوں تو بعینہ ویسی یا اس سے بھی بہتر آیت لے آتا ہوں۔حالانکہ یہاں تو قرآنی آیات کا ذکر ہی نہیں ہورہا۔یہاں تو یہود کا ذکر ہورہا ہے۔پس ایسی بے تعلق بات کو دلیل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جس کا سارے قصہ سے تعلق ہی کوئی نہیں۔اصل میں تو یہ قصہ چل رہا ہے کہ یہود نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی خیر نازل ہو۔مگر تم پر اللہ نے قرآن نازل کیا۔اب یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ قرآن کے نزول کی ضرورت کیا ہے جبکہ پہلے سے ہی الہی تعلیمات اور کتب موجود ہیں۔اس کا جواب یہ آیت دے رہی ہے کہ ان کتب کے بعض حصے اس قابل تھے کہ منسوخ کر دیے جاتے اور بعض ایسی باتیں تھیں کہ مرورِ زمانہ سے لوگوں کو بھول گئی تھیں اور آہستہ آہستہ کتب سماویہ سے محو ہو گئی تھیں۔ان کا دوبارہ بیان کرنا ضروری تھا۔پس ایک حصہ کو ہم نے منسوخ کردیا اور اس سے بہتر تعلیم اس کتاب میں بیان کر دی اور وہ تعلیم جو بھول گئی تھی اس کو پھر اسی طرح بیان کر دیا اور اہل کتاب اس پر اعتراض نہیں کر سکتے کیونکہ خود ان کی کتابوں میں نئی شریعت کی خبر موجود ہے۔چنانچہ یرمیاہ باب 31 آیت 31 میں ہے: ”دیکھ وے دن خداوند کہتا ہے میں اسرائیل کے گھرانے اور یہود کے گھرانے کے ساتھ نیا عہد باندھوں گا۔اس عہد کے موافق نہیں جو میں نے اُن کے باب دادا سے کیا پس قائلین نسخ اس آیت سے نسخ فی القرآن کا جو عقیدہ اخذ کرتے ہیں وہ سیاق وسباق کی رو سے غلط ٹھہرتا ہے۔مضمون کوئی اور بیان ہو رہا ہے اور مطلب کچھ لیا جارہا ہے۔پس عقیدہ نسخ کی بنیادہی نا کبھی پر ہے۔اس غلط تفہیم پر بنیا در کھتے ہوئے علما نسخ کی تین اقسام بیان کرتے ہیں۔ان کے نزدیک : ا۔شیخ کی ایک قسم یہ ہے کہ آیت کے معنی تو قائم ہوتے ہیں مگر الفاظ مہو کر دیے جاتے ہیں۔گویا ایک آیت معنا تو قرآن کریم میں موجود ہوتی ہے مگر اس کے الفاظ اس میں نہیں ہوتے۔وہ اس کی ایک مثال یہ بتاتے ہیں کہ قرآن کریم میں پہلے یہ آیت کہ الشیخ والشيخوخة اذا زنـيـا فـارجــمـوهـما نكالا من الله والله عزيز حكيم۔-۲۔دوسری قسم کا نسخ یہ بتاتے ہیں کہ آیت کے الفاظ تو قائم رکھے جاتے ہیں مگر اس کا حکم منسوخ کر دیا جاتا ہے۔اس کے ثبوت میں ایک آیت لا اکراہ فی الدین پیش کرتے ہیں۔اس قسم کا نسخ قرآن کریم میں بہت زیادہ تسلیم کیا گیا ہے۔۔تیسری قسم کا نسخ وہ ہوتا ہے جس میں ان کے نزدیک آیت کے الفاظ اور معنی دونوں منسوخ ہو جاتے ہیں۔اس کی مثال وہ تحویل قبلہ کا حکم بتاتے ہیں۔ننسها سے مراد وہ لیتے ہیں کہ متعلقہ حصہ ذہنوں سے اتر جاتا ہے اور اس کے ثبوت میں ایک من گھڑت قصہ پیش کرتے ہیں جس کا ذکر آگے آئے گا۔