اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 373
373 قرآن کریم کی معنوی محافظت عظمت سے بدظن کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ باتیں آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہیں اور ان کے ایسے بیانات سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ گویا اسلام اب زندہ مذہب نہیں اور اس کی حقیقی تعلیم پانے کے لیے اب کوئی بھی راہ نہیں۔لیکن ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا اپنی مخلوق کے لیے یہ ارادہ ہے کہ وہ ہمیشہ قرآن کریم کے چشمہ سے ان کو پانی پلا دے تو بیشک وہ اپنے ان قوانین قدیمہ کی رعائیت کرے گا جو قدیم سے کرتا آیا ہے۔اور اگر قرآن کی تعلیم صرف اسی حد تک محدود ہے جس حد تک ایک تجربہ کار اور لطیف الفکر فلاسفر کی تعلیم محدود ہوسکتی ہے اور آسمانی تعلیم جو محض حال کے نمونہ سے سمجھائی جاتی ہے اس میں نہیں تو پھر نعوذ باللہ قرآن کا آنالا حاصل ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ اگر کوئی ایک دم کے واسطے بھی اس مسئلہ میں فکر کرے کہ انبیاء کی تعلیم اور حکیموں کی تعلیم میں بصورت فرض کرنے صحت ہر وہ تعلیم کے مابہ الامتیاز کیا ہے تو بجز اس کے اور کوئی مابہ الامتیاز قرار نہیں دے سکتا کہ انبیاء کی تعلیم کا بہت سا حصہ فوق العقل ہے جو بجز حالی تفہیم اور تعلیم کے اور کسی راہ سے سمجھ ہی نہیں آ سکتا اور اس حصہ کو وہی لوگ دلنشین کرا سکتے ہیں جو صاحب حال ہوں مثلاً ایسے ایسے مسائل کہ اس طرح پر فرشتے جان نکالتے ہیں اور پھر یوں آسمان پر لے جاتے ہیں اور پھر قبر میں حساب اس طور سے ہوتا ہے اور بہشت ایسا ہے اور دوزخ ایسا اور پل صراط ایسا اور عرش اللہ کو چار فرشتے اٹھا رہے ہیں اور پھر قیامت کو آٹھ اٹھائیں گے اور اس طرح پر خدا اپنے بندوں پر وحی نازل کرتا ہے یا مکاشفات کا دروازہ ان پر کھولتا ہے یہ تمام حالی تعلیم ہے اور مجرد قیل وقال سے سمجھ نہیں آسکتی اور جب کہ یہ حال ہے تو پھر میں دوبارہ کہتا ہوں کہ اگر اللہ جلشانہ نے اپنے بندوں کے لیے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس کی کتاب کا یہ حصہ تعلیم ابتدائی زمانہ تک محدود نہ رہے تو بیشک اس نے یہ بھی انتظام کیا ہوگا کہ اس حصہ تعلیم کے معلم بھی ہمیشہ آتے رہیں کیونکہ حصہ حالی تعلیم کا بغیر توسط ان معلموں کے جو مرتبہ پر پہنچ گئے ہوں ہر گز سمجھ نہیں آسکتا اور دنیا ذرہ ذرہ بات پر ٹھوکریں کھاتی ہے پس اگر اسلام میں بعد آنحضرت ﷺ ایسے معلم نہیں آئے جن میں خلتی طور پر نور نبوت تھا تو گویا خدا تعالیٰ نے عملاً قرآن کو ضائع کیا کہ اس کے حقیقی اور واقعی طور پر سمجھنے والے بہت جلد دنیا سے اٹھا لیے مگر یہ بات اس کے وعدہ کے برخلاف ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُون یعنی ہم نے ہی قرآن اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے رہیں گے۔اب میں نہیں سمجھ سکتا کہ اگر قرآن کے سمجھنے والے ہی باقی نہ رہے اور اس پر یقینی اور مالی طور پر ایمان لانے والے زاویہ عدم میں مختفی ہو گئے تو پھر قرآن کی حفاظت کیا ہوئی۔کیا حفاظت سے یہ حفاظت مراد ہے کہ قرآن بہت سے خوشخط نسخوں میں تحریر ہو کر قیامت تک