اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 371 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 371

قرآن کریم کی معنوی محافظت 371 الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُون (الحجر: 10) کا وعدہ حفاظت۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 360 ) آپ فرماتے ہیں: ما مسلمانیم از فضل خدا مصطفه ما را امام و مقتدا ہم خدا کے فضل سے پیشوا ہیں مسلمان ہیں۔محمد مصطفے ہمارے امام اور آں کتاب حق که قرآن نام اوست باده عرفان ما از جام اوست خدا کی وہ کتاب جس کا نام قرآن ہے ہماری شراب معرفت اُسی جام سے ہے آل رسولے کش محمد هست نام دامن پاکش بدست ما مدام! وہ رسول جس کا نام محمد ہے۔اُس کا مقدس دامن ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہے مہر او با شیر شد اندر بدن جان شد و با جان بدر خواهد شدن اُس کی محبت ماں کے دودھ کے ساتھ ہمارے بدن میں داخل ہوئی وہ جان بن گئی اور جان کے ساتھ ہی باہر نکلے گی هست او خیر الرسل خیر الانام ہر نبوت را برو شد اختتام وہی خیر الرسل اور خیرالانام ہے اور ہر قسم کی نبوت کی تکمیل اُس پر ہوگئی ما از و یا بیم ہر نور و کمال! وصل دلدار ازل ہے او محال ہم ہر روشنی اور ہر کمال اُسی سے حاصل کرتے ہیں محبوب ازلی کا وصل بغیر اُس کے ناممکن ہے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام قرآن کریم کی معنوی حفاظت اور اس کی ضرورت اور معنوی حفاظت کے الہی انتظام کے بارہ میں فرماتے ہیں: علاوہ اس کے مشاہدہ صاف بتلا رہا ہے کہ جو لوگ صادقوں کی صحبت سے لا پروا ہوکر عمر گذارتے ہیں ان کے علوم و فنون جسمانی جذبات سے ان کو ہرگز صاف نہیں کر سکتے اور کم سے کم اتنا ہی مرتبہ اسلام کا کہ دلی یقین اس بات پر ہو کہ خدا ہے ان کو ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا اور جس طرح وہ اپنی اس دولت پر یقین رکھتے ہیں جو ان کے صندوقوں میں بند ہو یا اپنے ان مکانات پر جوان کے قبضہ میں ہوں ہرگز ان کو ایسا یقین خدا تعالیٰ پر نہیں ہوتا۔وہ سم الفار کھانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ یقیناً جانتے ہیں کہ وہ ایک زہر مہلک ہے لیکن گناہوں کی زہر سے نہیں ڈرتے حالانکہ ہر روز قرآن میں پڑھتے ہیں إِنَّهُ مَنْ يَّأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمُ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحُى (طه: ۷۵) پس سچ تو یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالی کونہیں پہچانتا وہ قرآن کو بھی نہیں پہنچان سکتا۔ہاں یہ بات بھی درست ہے کہ قرآن ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے مگر قرآن کی ہدایتیں اس