اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 368
الذكر المحفوظ 368 نور سے اپنی کتب منور کیں۔صرف علوم تفسیر کے حوالہ سے ہی دیکھا جائے تو امت مسلمہ میں بے شمار کام ہوا اور قرآنی معارف سے ہزاروں ہزار صفحات جگمگانے لگے۔ان علوم کی اہمیت اور ان سے استفادہ کی تاکید کرتے ہوئے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف سے اعراض کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک صوری اور ایک معنوی۔صوری یہ کہ کبھی کلام الہی کو پڑھا ہی نہ جاوے جیسے اکثر لوگ مسلمان کہلاتے ہیں مگر وہ قرآن شریف کی عبارت تک سے بالکل غافل ہیں اور ایک معنوی کہ تلاوت تو کرتا ہے مگر اس کی برکات و انوار و رحمت الہی پر ایمان نہیں ہوتا۔پس دونو اعراضوں میں سے کوئی اعراض ہو ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 519 ) اس سے پر ہیز کرنا چاہیئے۔ایک دوسری جگہ تفسیر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ہم ہر گز فتوی نہیں دیتے کہ قرآن کا صرف ترجمہ پڑھا جاوے۔اس سے قرآن کا اعجاز باطل ہوتا ہے۔جو شخص یہ کہتا ہے وہ چاہتا ہے کہ قرآن دنیا میں نہ رہے ( ملفوظات جلد سوم جلد 265) صرف قرآن کا ترجمہ اصل میں مفید نہیں جب تک اس کے ساتھ تفسیر نہ ہو مثلاً غیر الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِین کی نسبت کسی کو کیا سمجھ آ سکتا ہے کہ اس سے مراد یہودونصاریٰ ہیں جب تک کہ کھول کر نہ بتلایا جاوے اور پھر یہ دعا مسلمانوں کو کیوں سکھلائی گئی۔اس کا یہی منشا تھا کہ جیسے یہودیوں نے حضرت مسیح کا انکار کر کے خدا کا غضب کمایا۔ایسے ہی آخری زمانہ میں اس امت نے بھی مسیح موعود کا انکار کر کے خدا کا غضب کمانا تھا اسی لیے اول ہی ان کو بطور پیشگوئی کے اطلاع دی گئی کہ سعید روحیں اس وقت غضب سے بچ سکیں۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 449) یہ بات بہت عام فہم ہے کہ آئندہ زمانوں میں لفظی محافظت کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی معنوی محافظت اور ہمہ وقت نگرانی بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بس سے باہر تھی۔آپ کی وفات کے بعد اگر ہر شخص اپنے طور پر قرآن کریم کے معانی کرنے لگتا تو بہت اختلاف پیدا ہوتا۔ظاہر سی بات ہے کہ اگر قرآن کریم کے الفاظ تو محفوظ ہوں لیکن اس کے معانی اور مطالب میں بہت زیادہ اختلاف پیدا ہو جائے تو اس کی لفظی حفاظت بنی نوع کے کس فائدہ کی ؟ گو مسلمانوں نے قرآن کریم کی ایضاح و تفسیر کے لیے ایسے ایسے اصول تفسیر وضع کیے جن پر کار بند رہ کر بہت حد تک درست معانی اور مطالب اخذ کیے جاسکتے ہیں لیکن پھر بھی شک کا ایک دروازہ کھلا رہ جاتا ہے کیونکہ ان معانی اور مطالب کی بنیاد بہر حال انسانی عقل پر ہوتی ہے اور بالفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ے عقل اندھی ہے اگر نیر الہام نہ ہو پس خدا تعالیٰ نے محافظت قرآن کریم کے ظاہری سامانوں کے ساتھ ساتھ ایک ایسا انتظام بھی فرمایا جو غیر