اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 367 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 367

قرآن کریم کی معنوی محافظت 367 قرآن کریم کی حفاظت کے حوالہ سے ایک بہت اہم پہلو کلام اللہ کے درست اور صحیح معانی ومطالب کی تعلیم ہے۔سب سے بڑے معلم قرآن خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔آپ کی ساری زندگی قرآن کریم کی تعلیم واشاعت میں صرف ہوئی۔آپ کے بارہ میں آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی گواہی ہے کہ آپ سرا پا قرآن تھے۔قرآن کریم کی درس و تدریس اور اس کی تعلیم کی اشاعت کے لیے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مساعی کا تعلیم القرآن کے عنوان کے تحت ایک مختصر خاکہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔قرآن کریم کی درست تفسیر کے لیے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اور آپ کی عطا کردہ تعلیم القرآن بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔چنانچہ آپ کے عطا کردہ تعلیم وفہم قرآن کے صحیح فہم اور ادراک کے لیے امت مرحومہ میں بہت کام ہوا۔امت مسلمہ میں بہت سے علوم کی بنیاد بلواسطہ یا بلا واسطہ قرآن کریم کے درست تفسیر اور اس کا فہم ہی تھی۔چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں علمانے تفسیر قرآن کے لیے اصول وضع کیسے اور علوم تغییر کو ان کی معراج تک پہنچایا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک ذریعہ قرآن مجید کی حفاظت کا یہ تھا کہ اسلامی علوم کی بنیاد قرآن مجید پر قائم ہوئی۔اس ذریعہ سے اس کی ہر حرکت و سکون محفوظ ہو گئے۔مثلاً نحو پیدا ہوئی تو قرآن مجید کی خدمت کے لئے۔۔۔۔پھر مسلمانوں نے تاریخ ایجاد کی تو قرآن مجید کی خدمت کی غرض سے کیونکہ قرآن مجید میں مختلف اقوام کے حالات آئے تھے۔ان کو جمع کرنے لگے تو باقی دنیا کے حالات ساتھ ہی جمع کر دئیے۔پھر علم حدیث شروع ہوا تو قرآن مجید کی خدمت کے لئے تا معلوم ہو سکے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے کیا معنے کئے ہیں۔پھر اہل فلسفہ کے قرآن مجید پر اعتراضات کے دفعیہ کے لئے مسلمانوں نے فلسفہ وغیرہ علوم کی تجدید کی اور علم منطق کے لئے نئی مگر زیادہ محقق راہ نکالی۔پھر طب کی بنیاد بھی قرآن مجید کے توجہ دلانے پر ہی قائم ہوئی۔نحو میں مثالیں دیتے تھے تو قرآن مجید کی آیات کی۔ادب میں بہترین مجموعہ قرآن مجید کی آیات کو قراردیا گیا تھا۔غرض ہر علم میں آیات قرآنی کو بطور حوالہ نقل کیا جاتا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان سب کتابوں سے آیات کو جمع کیا جائے تو ان سے بھی سارا قرآن جمع ہو جائے گا۔مسلمانوں میں قرآن کریم کی خدمت کے لئے دوسرے علوم کی طرف رجوع کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہوا کہ پہلی کتابوں سے تو دنیوی علماء کا طبقہ سخت بے زار تھا مگر مسلمانوں میں سے ان علوم کے ماہر ہمیشہ قرآن مجید کے خادم رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم سے علوم کا دشمن نہیں بلکہ مؤید ہے۔( تفسیر کبیر جلد چہارم صفحه 52 مرتفسیر المجر آیت 10) پس مسلمانوں نے قرآن کریم کے معانی سمجھنے کے لیے تمام علوم کو بطور خادم استعمال کیا اور قرآن کریم کے