اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 354 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 354

الذكر المحفوظ 354 میاں قرآن کریم ہر لحاظ سے قوانین فطرت اور قوانین کے قدرت کے عین مطابق ہے۔اس کی تعلیم بھی اور اس کی حفاظت کے انتظامات بھی۔پس اگر کائنات میں جاری اصولوں کو مانو گے تو قرآن کریم کو بھی ماننا پڑے گا۔نہیں تو اپنی کوئی الگ ہی دُنیا بسانی پڑے گی کیونکہ تمہاری کیا کسی بھی انسان کی مجال نہیں کہ خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے ان قوانین میں کوئی ادنی سا رخنہ بھی پیدا کر سکو۔اب خدا تعالیٰ تمہارے دل میں لگی بغض اور نفرت کی آگ بجھانے کے لیے اپنے لاکھوں سال سے جاری قوانین کو تو نہیں بدل سکتا۔پس اگر توفیق ہے تو اپنی ہی کوئی دُنیا بسا لو۔قرآن کریم تعلیم اور حفاظت کے ذرائع ہر لحاظ سے قوانین قدرت اور قوانین فطرت سے ایسے مطابقت رکھتا ہے کہ ان کو الگ کیا ہی نہیں جا سکتا اور ایسا کیوں نہ ہو ؟ قرآن اسی خالق کا ہی تو کلام ہے جس کی تخلیق سیہ کا ئنات ہے! علاوہ ازیں جب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے تو اب ہم یہ سوال پوچھنے کے بھی حق دار ہیں کیا انسانی ذہن خدا تعالیٰ نے تخلیق نہیں کیا؟ کیا وہ انسانی ذہن کی ساخت ایسی نہیں بنا سکتا کہ اس کے کلام کو حفظ کرنا ذہنی قومی کے لیے آسان اور فائدہ مند ہو جائے؟ پھرا بن وراق کا یہ کہنا تاریخی حقائق کے بھی خلاف ہے کہ قرآن کریم حفظ کرنے سے ذہنی قومی متاثر ہوتے ہیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ قرآن کریم کے حافظ کبھی بھی قرآن حفظ کرنے کی وجہ سے دوسرے انسانوں سے پیچھے ار ہے۔کیا ابن وراق نہیں جانتا کہ سب سے پہلے حافظ قرآن خود رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تھے۔کیا آپ نے دُنیا میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی ؟ آج جو آگ ابن وراق کے دل میں لگی ہوئی ہے کیا اس کی وجہ وہ عظیم الشان انقلاب نہیں جس کے تار رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی انگلیوں میں ہیں۔ایک ایسا انقلاب برپا کیا کہ ہر دور میں ابن وراق کی تماش کے بدنصیب پیدا ہوتے رہے اور اس پاکیزہ انقلاب کے اثرات ختم کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے حسرتناک اور نامراد انجام کو پہنچتے رہے۔اگر ابن وراق کی یہ بات درست ہے تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کس طرح یہ عظیم الشان تبدیلی پیدا کر گئے ؟ قرآن کریم حفظ کرنے کا ذہنی صلاحیتوں پر اگر کوئی بداثر ہو سکتا تھا تو سب سے پہلے آپ کو اس کا شکار ہونا چاہیے تھا۔آپ کی پیدا کردہ تبدیلی کس شان کی ہے اس بارہ میں آپ کے غلام کامل حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وہ زمانہ کہ جس میں آنحضرت مبعوث ہوئے حقیقت میں ایسا زمانہ تھا کہ جس کی حالت موجودہ ایک بزرگ اور عظیم القدر مصلح ربانی اور ہادی آسمانی کی شدید محتاج تھی اور جو تعلیم دی گئی وہ بھی واقعہ میں سچی اور ایسی تھی کہ جس کی نہایت ضرورت تھی اور ان تمام امور کی جامع تھی کہ جس سے تمام ضرورتیں زمانہ کی پوری ہوتی تھیں اور پھر اس تعلیم نے اثر بھی ایسا کر دکھایا کہ لاکھوں دلوں کو حق اور راستی کی طرف کھینچ لائی اور لاکھوں سینوں پر لا الہ الا اللہ کا نقش جما دیا