اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 344
الذكر المحفوظ 344 قرآن کریم کے قدیم نسخے آج بھی موجود ہیں جو قرآن کریم کی حفاظت کے ناقابل تردید ثبوت اور ایسے گواہ ہیں جن کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔مزید برآں حضرت عثمان کے دور کا ایک نسخہ آج بھی موجود ہے جو کہ 25 ھ میں تیار کیا گیا۔اس مصحف پر لکھا ہوا ہے " هذا ما اجمع عليه جماعة من اصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم منهم زيد بن ثابت و عبد الله بن زبیر و سعید ابن العاص آگے اور صحابہ کے نام ہیں۔یہ نسخہ تا حیات حضرت عثمان کے پاس رہا پھر حضرت علیؓ کے پاس رہا، پھر حضرت امام حسنؓ کے پاس رہا۔پھر امیر معاویہ کے سپرد ہوا۔اس کے بعد اندلس لے جایا گیا۔اندلس سے مراکش کے دارالسلطنت فاس منتقل ہوا اور پھر کسی طرح مدینہ واپس پہنچایا گیا۔جنگ عظیم اول میں فخری پاشا گورنر تر کی دیگر تبرکات کے ساتھ اس نسخہ کو بھی قسطنطنیہ لے گیا۔اب تک وہاں موجود ہے۔اس کے متعلق یہ حقائق درج کیے جاچکے ہیں کہ اس نسخہ کی تیاری کے بعد حضرت ابو بکر کے دور خلافت میں تیار کیا گیا نسخہ مصحف ام قریباً 25 سال تک محفوظ موجود رہا۔مگر کسی نے اس کا مصحف ام سے اختلاف ثابت نہیں کیا۔گویا قرآن کریم کے ان نسخہ جات سے لے کر، جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زیر نگرانی تحریری صورت میں محفوظ کیے گئے اور جن کی موجودگی میں مصحف ام تیار کیا گیا، جسے حضرت ابو بکڑ نے امت کی گواہی سے تیار کیا، آج تک ایک نہ ٹوٹنے والا ایک تو اتر ہے۔ابنِ وراق کہتا ہے کہ اکثر محققین یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں تحریف ہوئی ہے۔ان محققین کے بارہ میں ہم دیکھ آئے ہیں کہ یہ دراصل کون لوگ ہیں۔اگر یہ کہتے ہیں کہ تحریف ہوئی ہے تو بہت سے مسلمان اور غیر مسلم محقق ایسے بھی تو ہیں جو کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔پس دونوں گروہوں میں سے سچا کون ہے اس کا فیصلہ تو تبھی ہو سکتا ہے کہ جب دونوں گروہوں کے دلائل کا تجزیہ کیا جائے۔ایک گروہ کے دلائل کا مطالعہ تو ہم کر آئے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھ آئے ہیں کہ جو تحریف ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ زیادہ تر جھوٹ اور دجل سے کام لیتے ہیں اور دلائل کی جگہ قیاسی اور ظنی باتیں پیش کرتے ہیں۔اسلام کے بارہ میں تحقیق کرتے ہوئے دیانت داری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مستند روایات کو یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ یہ رسول کریم کے بعد سینہ بسینہ منتقل ہوتی رہیں پھر سو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد ضبط تحریر میں آئیں۔مگر جب اپنے مفید مطلب کوئی غلط نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں تو ایسی غیر مستند اور ضعیف روایات پر اپنے اندازوں کی بنیاد رکھتے ہیں جنہیں محققین بالاتفاق کمزور اور غلط تسلیم کر چکے ہوتے ہیں۔جبکہ محافظت قرآن کریم کے تاریخی پہلو پر محور کرنے والے بہت سے مغربی محققین اور مستشرقین یہ گواہی دینے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ یہ کتاب بعینہ اسی حالت میں ہم تک پہنچی ہے جس حالت میں محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بنی نوع کے سپرد کی تھی۔کچھ گواہیاں گزشتہ میں گزرچکی ہیں۔کچھ ہم یہاں ابن وراق کے محققین کے مقابل پر پیش کر دیتے ہیں۔