اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 343
حفاظت قرآن کریم پر متفرق اعتراضات 343 میں تحقیق کی جائے تو کچھ پتا نہیں چلتا کہ یہ بات کب کہی گئی اور اس کے راوی کون تھے۔یہ درست ہے سنی اور شیعہ اور اسی طرح مختلف فرقوں کے ملا جہالت اور دشمنی میں ایک دوسرے پر قرآن کریم میں یا تحریف کرنے کے الزامات لگاتے رہتے ہیں مگر وہ بھی عام طور پر مستشرقین والا رویہ ہی اختیار کرتے ہیں اور تعصب میں اندھے ہو کر جھوٹ بولتے ہیں۔یہ ملانوں کا وطیرہ ہے کہ ایک دوسرے الزامات لگانے کے شوق میں ایسی موشگافیاں کرتے رہتے ہیں اور ان میں سے کچھ سادہ لوح دوسرے فرقوں کے بارہ میں واقعی ایسا سمجھتے بھی ہیں۔ایسے مستند علماء جو یہ اقرار کرتے ہوں پیش کرنے چاہئیں۔ہم ثابت کر آئے ہیں کہ ایسی کوئی آیات نہیں جو درج ہونے سے رہ گئی ہوں یا بعد میں ڈالی گئی ہوں۔اگر کوئی ایسی آیت ہے تو دلائل کے ساتھ پیش کرنی چاہیئے۔پس قرآن کریم تاریخ مذاہب کی واحد ایسی کتاب ہے جو نزول کے ساتھ ساتھ تحریری اور حفظ ، دونوں طور سے محفوظ کی گئی اور واحد کتاب ہے جس کے بارہ میں اپنے اور پرائے ، دوست اور دشمن بلا تفریق مذہب وعقیدہ گواہیاں دیتے چلے آئے ہیں کہ یہ کتاب آج تک انسانی دست برد سے مکمل طور پر پاک ہے۔حضرت عثمان کے دور تک تو مستشرقین حفاظت قرآن کے موضوع پر اپنی جہالت یا عوام کی عدم واقفیت اور سادہ لوحی کی بنیاد پر اعتراض یا شبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔حضرت عثمان کے دور کے بعد اشاعت قرآن کا ایک ایسا دور شروع ہوتا ہے جس میں قرآن کریم میں تبدیلی کا کسی قسم کا کوئی شک نہیں کیا جاسکتا۔کثرت سے قرآن کریم کے نسخہ جات تحریر کیے گئے جو حضرت عثمان کے مصحف کی بعینہ نقل تھے۔کثرت سے حفاظ پیدا ہوئے اور قرآن کریم کی کتابت، حفظ اور تلاوت ہر شعبہ میں امت مسلمہ میں بے مثال کام ہوا۔کتابت، حفظ اور تلاوت کے شعبوں کو علماء نے با قاعدہ سائنسی بنیادوں پر استوار کیا۔پھر تفسیر اور اخذ معارف کے میدان میں بھی بہت وسیع کام ہو اور بلا مبالغہ ہزاروں جلدیں لکھی گئیں۔ان تمام کاموں میں قرآنی آیات کا کثرت سے اندارج ہو تا تھا اس لیے اس میدان میں ترقی سے بھی قرآن کریم کی معنوی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس کی ظاہری حفاظت کا امر بھی قوی تر ہوتا چلا گیا۔پھر مسلمان سائنس اور دیگر دنیاوی علوم کے میدانوں میں نکلے تو بھی قرآن کو ہی بنیاد بنایا اور ہر علم کی وضاحت قرآن کریم سے کرنے کی کوشش کی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان سب کتابوں سے آیات کو جمع کیا جائے تو ان سے بھی سارا قرآن جمع ہو جائے گا۔مسلمانوں میں قرآن کریم کی خدمت کے لیے دوسرے علوم کی طرف رجوع کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہوا کہ پہلی کتابوں سے تو دنیوی علما کا طبقہ سخت بیزار تھا مگر مسلمانوں میں سے ان علوم کے ماہر ہمیشہ قرآن مجید کے خادم ہی رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں که قرآن کریم بچے علوم کا دشمن نہیں بلکہ مؤید ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد چہارم زیر تفسیر آیت سورۃ الحجر 10 صفحہ 17)