اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 323 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 323

323 حفاظت قرآن کریم بر متفرق اعتراضات well-meaning zeal has heaped around this man, are disgraceful to ourselves only۔(Thomas Carlyle: On Heroes, Hero-Worship and the Heroic in History, p۔41) صلى الله ہمارا یہ تصور اب کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں رہا کہ نبی عربی ( نعوذ باللہ ) ایک عوکہ دینے والے شخص تھے، اُن کا ذہن خرامات کا مجموعہ تھا۔عمد جانتے بوجھتے ہوئے ان کے خلاف جو کذب وافترا کا طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا ہے یہ صرف ہماری ہی ذلت کا موجب ہوا ہے۔اور اس رویہ کی مذمت کرنے والوں کی یہ فہرست چھوٹی نہیں ہے۔بہت سے دیانت دار اہل علم جیسے جارج برناڈشا، جان لین پورٹ، سٹینلے لین پول، ڈاکٹر ہنری اسٹب ، گاڈفرے، اور بہت سے محققین جنہیں تمام دنیا عظیم تسلیم کرتی ہے، کھل کر یہ کہتے ہیں کہ مغربی محققین کا محض کہانیاں بیان کردینا تو معتبر نہیں ہوسکتا۔اس لیے جب تک کوئی دلیل پیش نہ کی جائے ایسے لچر اعتراضات قابل اعتنا نہیں ہو سکتے۔بلکہ یہ تو عیسائیت اور اہل مغرب کے لیے باعث ذلت ہیں۔اب ابن وراق نے مغرب کا یہ ننگ دوبارہ اُچھال دیا ہے۔اہل مغرب کو آستین کے اس سانپ پر اور اس قماش کے دوسرے نام نہاد محققین پر نظر رکھنی چاہیئے۔تاریخی اور نقلی دلائل کے بارہ میں عام طور پر مستشرقین اختلاف کرنے کی زیادہ جرات نہیں کرتے یا اگر کرتے ہیں تو ابن وراق والا ہتھیار استعمال کرتے ہیں ؛ یعنی دجل اور فریب۔ایک اور عجیب وطیرہ یہ بھی ہے مستشرقین کا کہ عربی زبان کے علم میں کورے ہونے کے باوجود کہتے ہیں کہ اس آیت کا سٹائل ایسا ہے کہ یہ اس سورۃ کی نہیں لگتی یا یہ کہ اس کا سٹائل بتاتا ہے کہ یہ آیت بعد میں شامل کی گئی ہے۔چونکہ ابن وراق نے مستشرقین کے حوالہ سے یہ ذکر نہیں کیا کہ اُن کے پاس اس دعوئی کا ثبوت کیا ہے اس لیے ہم انہیں جوابات پر اکتفا کرتے ہیں جو گزشتہ میں درج ہو چکے۔جہان تک ابن وراق کے اس قول کا تعلق ہے کہ مسلمانوں نے خود اس بارہ میں شک کا اظہار کیا ہے کہ بعض آیات قرآن کریم کا حصہ نہیں ہیں اور پھر اپنی بات کو سچا کرنے کے لیے کہتا ہے کہ حضرت علی کے پیرو کار خارجیوں نے سورۃ یوسف پر اعتراض کیا ہے کہ یہ سورت کلام الہی کا حصہ نہیں ہوسکتی۔اس کے جواب میں ہم اتنا ہی کہتے ہیں کہ سورۃ یوسف مکی دور میں نازل ہوئی اور کبھی کسی مخالف نے یہ اعتراض نہ کیا کہ ایک طرف تو ہماری اخلاقی حالتوں پر ہمیں ملزم ٹھہراتے ہو اور ہماری اصلاح کا دعویٰ لے کر سامنے آئے ہو اور دوسری طرف ایسی اخلاق باختہ سورت پیش کرتے ہو؟ حضرت ابوبکر کے دورِ خلافت میں جمع قرآن کے وقت کسی نے اعتراض نہ کیا اور تمام امت نے متفقہ طور پر گواہی دی کہ موجودہ صورت میں قرآن کریم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو کلام الہی کا حصہ نہ ہو اور انتہائی اعلیٰ درجہ کا استناد اپنے اندر نہ رکھتا ہو۔پھر اس گواہی کے ساتھ اکٹھا کیا ہوا قرآن کریم کا نسخہ حضرت علیؓ کے دورِ خلافت میں بھی موجود تھا۔یہ نسخہ اور قرآن کریم