اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 17
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن سے اس کا اتارا جانا ہے۔17 اور بھی بہت سی آیات ایسی ملتی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ قرآن کریم تحریری صورت میں موجود تھا۔سارے زمانہ نزول میں قرآن کریم اپنے لیے لفظ ”کتاب“ استعمال کرتا چلا جاتا ہے جو دراصل ایک دعوی ہے کہ قرآن کریم ابتداء نزول سے لکھا جاتا رہا ہے اور مخالفین کی نہ صرف اس دعوئی پر خاموشی بلکہ مختلف مقامات پر اس حقیقت کا واضح الفاظ میں اعتراف کرنا اس دعوی کی صداقت پر علاوہ دوسرے دلائل کے ایک بڑی دلیل ہے۔علاوہ ازیں بہت سی مستند تاریخی شہادتیں بھی اس حقیقت کی مؤید ہیں۔احادیث اور تاریخ سے ثبوت ام خالد بنت خالد بن سعید بن العاص کی روایت ہے کہ بسم الله الرحمن الرحیم سب سے پہلے میرے والد ( خالد بن سعید ) نے لکھی تھی اور خالد بن سعید باختلاف روایات تیسرے یا چوتھے یاپانچویں نمبر پر ایمان لانے والے ہیں۔آپ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد ایمان لائے اور السَّابِقُونَ الْأَوَّلُون میں سے تھے۔(الاصابة في تمييز الصحابه الجزء الاول صفحه (406 اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے قبل بعض مقتدر صحابہ مثلاً حضرت علی و حضرت عثمان و حضرت ابوبکر وغیرہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) ایمان لا چکے تھے۔نیز اس بات کا واضح اشارہ ملتا ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے علاوہ وحی حضرت خالد بن سعید کے ایمان لانے سے قبل لکھی جارہی تھی اور اگر بسم اللہ کا نزول پہلی مرتبہ ان کے ایمان لانے سے متصل نہیں ہوا تھا تو بسم اللہ بھی لکھی جاچکی ہوگی۔خصوصاً اس صورت حال میں کہ جب ایمان لانے والے اپنے آپ کو مخفی رکھتے تھے اور کئی مومن ایک دوسرے سے واقف بھی نہیں تھے۔اس لیے روایات میں اس بارہ میں اختلاف ہے کہ کون کس نمبر پر ایمان لایا۔حضرت خالد بن سعید کے ہاتھ کے لکھے ہوئے نسخہ قرآن کا ذکر کتاب المصاحف میں ملتا ہے کہ یہ نسخہ حرف بحرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا تھا۔(كتاب المصاحف لابن ابى داؤد الجزء الثالث: ص 104 اختلاف خطوط المصاحف) حضرت ابوبکر ، حضرت عثمان، اور حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین بالکل ابتداء میں ایمان قبول کرنے والوں میں سے ہیں اور یہ سب لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور کاتبین وحی میں بھی شامل تھے یعنی آنحضور نے ان صحابہ کی کتابت وحی پر با قاعدہ ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی۔اس لیے غالب امکان ہے کہ پہلا کا تب وحی بھی انہی میں سے کوئی ہوگا۔چنانچہ تاریخ میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت جب بدبخت قاتل نے آپ پر تلوار کا وار کیا تو اپنے بچاؤ کے لیے آپ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کر دیا۔وار ہاتھ پر پڑا اور آپ کی انگلیاں کٹ گئیں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ وہ ہاتھ تھا جس نے سب سے پہلے قرآن مجید تحریر کیا تھا۔