اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 16
الذكر المحفوظ 16 در بار نجاشی میں اس کے ابتدائی حصہ کی تلاوت کی گئی تھی۔(السیرة النبويه لا بن هشام جزء اول صفحه 360) اس لحاظ سے سورۃ الفرقان کا زمانہ نزول نبوت کا دوسرا یا تیسرا سال بنتا ہے۔مشہور متعصب مستشرق ریونڈ وھیری بھی یہ اعتراف کرتا ہے کہ یہ سورت بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی۔The most that can be said of the date of revelation of this chapter is that they belong to an early period in Muhammad's ministry of Makkah۔(A comprehensive commentry of the Quran by Rev۔E۔M۔Wherry vol۔3 Page 207) یعنی اس سورت کے متن کی وحی کے بارہ میں زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ حمد (ﷺ) کی دعوت کے ابتدائی مکی دور کی ہے۔پس بالکل ابتدائی زمانہ نبوت میں نازل ہونے والی سورۃ الفرقان میں کفار ہی کا قول محفوظ کیا گیا ہے جس کے مطابق قرآن نہ صرف یہ کہ لکھا جاتا تھا بلکہ اس کثرت سے لکھا جاتا کہ گویا رات دن اس کی املاء کروائی جارہی تھی۔پس ابتدائی زمانہ نبوت سے ہی قرآن کریم کی تحریر کا کام اس انداز میں ہور ہا تھا کہ مخالفین کو بھی علم تھا۔ذیل میں چند مزید مثالیں درج کی جاتی ہیں: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ - (الجمعة:3) یعنی وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہی میں سے رسول بھیجا جو ان پر آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور الکتاب کی تعلیم دیتا ہے اور اس کی حکمت سکھاتا ہے۔اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِي (الزمر: 24) اللہ تعالیٰ نے سب سے خوبصورت بیان ایک دوسرے سے ملتے جلتے مضامین بیان کرنے والی کتاب کی صورت میں اُتارا ہے إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالذِكرِ لَمَّا جَاءَ هُمْ وَإِنَّهُ لَكِتُبٌ عَزِيزٌ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ (حم السجدة: 43،42) ترجمہ: یقینا وہ لوگ ( سزا پائیں گے ) جنہوں نے ذکر کا، جب وہ اُن کے پاس آیا، انکار کر دیا حالانکہ وہ ایک بڑی غالب اور مکرم کتاب کی صورت میں تھا۔جھوٹ اُس تک نہ سامنے سے پہنچ سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔بہت صاحب حکمت ، بہت صاحب تعریف کی طرف