اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 302
الذكر المحفوظ 302 محض اس لیے نہیں چھوڑتا کہ یہ آپ نے حضرت رسول کریم سے سیکھی ہے کسی دوسرے کے کہنے پر کیوں چھوڑ دیں کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی ایسی بات پر راضی ہو جاتا جو حفاظت قرآن کے معاملہ میں درحقیقت شک پیدا کرتی ہو؟ جمع قرآن کے بارہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے خلافتِ راشدہ سے اختلافات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خلافت راشدہ بہت غور و خوض کے بعد کسی حکمت کے تحت ایک حکم جاری کرتی تھی اور مستقبل میں سر اٹھانے والے ممکنہ خطرات کو بھانپتے ہوئے حفاظت قرآن کے ضمن میں جو اقدام کیے، جیسے جیسے آپ پر ان اقدامات کی حکمتیں کھلتی چلی گئیں آپ تسلیم کرتے چلے گئے۔علاوہ ازیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگرانی دوسرے صحابہ کتابت قرآن کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے اور پوری احتیاط برتی جارہی تھی تو اس کے مقابل پر ایک صحابی کے ذاتی اور نامکمل کام کو پیش کرنا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خاص نگرانی میں بھی نہیں تھا، کس اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے؟ ہمیں حضرت ابن مسعودؓ کے کام کی اہمیت اور ان کی عظیم الشان خدمت قرآن سے انکار نہیں۔مطلب صرف یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زیر نگرانی اور باہتمام خاص ہونے والے کام کے مقابل پر ، اور صحابہ کے متفقہ اور اجماعی فیصلہ کے برخلاف اس اختلاف کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔خصوصاً جبکہ عرب معاشرہ میں لکھنے کا رواج نہیں تھا تو اس صورت میں ان مصاحف کا اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زیر نگرانی تیار ہونے والے مصاحف اور حفاظ کے حفظ کے مقابل پر کوئی فرق ہو تو اس کو اس کے سوا اور کیا حیثیت دی جاسکتی ہے کہ اسے ایک ایسی غلطی سمجھا جائے جس پر ابتداء میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ مصر تھے لیکن بعد میں اپنی غلطی کا اقرار کر لیا۔مرکزی صحائف کے علاوہ تمام صحائف تلف کرنے کا حکم صحابہ کی متفقہ رائے اور اجماع سے کیا جارہا تھا۔پس اُس وقت صحابہ رسول کا ایک مرتبہ پھر متفق ہونا یہ بتاتا ہے کہ انہیں اطمینان تھا کہ آج اسی قرآن کریم پر امت کو جمع کیا جارہا ہے جس پر حضرت ابو بکر کے دور میں امت پورے اطمینان سے جمع ہوئی تھی اور کسی قسم کی تحریف نہیں ہورہی۔نہ ہی اس دور کے اہل زبان مخالفین اسلام کی طرف سے یہ اعتراض ہوا کہ جس قرآن کی حفاظت کا خدائی وعدہ تھا اس میں آج تحریف کی جارہی ہے۔اس کی وجہ یہی تھی کہ صحابہ اور مخالفین دونوں گروہ پوری طرح باخبر تھے اور جانتے تھے کہ یہ معاملہ تحریف کا نہیں بلکہ حفاظت کا ہے اور قرآن میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی۔یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اختلاف قراءت کے بارہ میں آج ہمارے پاس جو معلومات ہیں وہ بزبان رواۃ سینہ بسینہ منتقل ہورتی رہیں اور حضرت عثمان کی اس خدمت کے اتنی یا سو سال یا اس سے بھی بعد تحریری صورت میں اکٹھی کی گئیں ہیں۔محققین نے تحقیق اور تدقیق سے اس ذخیرہ روایات میں مستند روایتوں کی کھوج کی۔کچھ لوگوں نے زیادہ سے زیادہ قراء توں کو کھوجنے کے شوق میں غلط روایات کو بھی اپنا لیا۔آج اختلاف قراءت کے بارہ میں مستند روایات کے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے قرآن کریم بلا رد و بدل ہم تک پہنچا ہے اور غیر مستند روایات