اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 301
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 301 مشکل ادوار سے گزرا لیکن ہمیشہ مسلم دنیا میں ایک ہی قرآن رانج رہا۔۔۔اس دنیا میں قرآن کریم کے علاوہ اور کوئی کتاب ایسی نہیں جس کا متن بارہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی اتنا محفوظ ہو جتنا قرآن کا ہے۔یہ بھی بات ذہن میں رکھی جانے والی ہے کہ حضرت عثمان پر نام نہاد مسلمان مخالفین کی طرف سے بہت سے مطاعن کیے جاتے رہے مگر اس دور میں جبکہ آپ تمام عرب کو قرآن کریم کی ایک قراءت پر اکٹھا کر رہے تھے تو کسی عرب نے خواہ وہ مخالف تھا یا موافق آپ کے اس فعل پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ قرآن کریم میں تحریف کی جارہی ہے۔قابل غور بات ہے کہ حضرت علی بھی یہ گواہی دیتے ہیں کہ حضرت عثمان کا فعل جو صحابہ کے مشورہ اور اتفاق رائے سے کیا گیا بہت صحیح تھا اور پھر حضرت علی سے جنگ کے وقت حضرت امیر معاویہ کی طرف سے بھی کبھی یہ اعتراض نہیں کیا گیا کہ آپ کے نزدیک وہ قرآن درست ہے جو باقی امت مسلمہ کے نزدیک قابلِ اعتراض ہے۔اور تو اور خارجی بھی اسی قرآن کو نیزوں پر بلند کر کے اس کے مطابق فیصلے کا مطالبہ کرتے۔حضرت عثمان نے اپنے دور خلافت میں جب صحابہ کے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا کہ امت کو ایک قراءت پر جمع کر دیا جائے اور یہ حکم جاری کیا کہ تمام عرب لغت قریش پر جمع کیسے اس قرآن کریم پر اکٹھا ہو جائے جو حضرت ابو بکر کے دور خلافت میں صحابہ رسول کی نگرانی میں تیار کیے گئے نسخہ سے تیار کیا جارہا ہے اور باقی نسخے جلا دیے جائیں۔تو اس مرتبہ پھر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ حکم پسند نہیں آیا اور آپ نے اپنی پسند کی قراءت والے اپنے صحیفہ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریحی فرمودات بھی درج کیسے ہوئے تھے جبکہ انہی وجوہ نزاع کو تو ختم کیا جارہا تھا لیکن کچھ عرصہ بعد آپ متفق ہو گئے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ان القرآن انزل على نبيكم من سبعة أبواب على سبعة احرف او حروف و ان الكتاب قبلكم كان ينزل من باب واحد على حرف واحد معناهما واحد ابن ابی داؤد: کتاب المصاحف الجزء الاول صفحه 18) قرآن کریم تمہارے نبی (ع) پر سات دروازوں سے سات حروف پر نازل ہوا ہے۔تم سے پہلے کتابیں ایک ہی حرف پر نازل ہوتی تھیں۔لیکن دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی ہوتے ہیں۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کا اختلاف کوئی ایسا اختلاف نہیں تھا جس میں قرآن کریم کا مضمون یا آیات ہی بدل جاتی تھیں۔آپ صرف یہ فرماتے تھے کہ ایک علم جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے وہ کسی کے کہنے پر کیونکر چھوڑ دیں؟ بہر حال جب آپ پر حکمت واضح ہوئی تو اپنے نسخہ کو تلف کر دیا اور پھر چوتھی بار قرآن کریم تحریر کیا جو کہ لغت قریش کے مطابق تھا۔یہ نسخہ آج بھی محفوظ ہے۔(عبد الصمد صارم الازھری: تاریخ القرآن ، ایڈیشن 1985 ندیم یونس پرنٹرز لا ہور ، پبلشرز: مکتبہ معین الادب اردو بازار لا ہور صفحہ 81) یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت عثمان کے دور میں حضرت عبداللہ جیسا صاحب ایمان شخص جو اپنی قراءت کو