اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 291 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 291

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 291 جنوبی عرب ذمرن ذن مزندن و قههو شمالی عرب ذامران ذا اللوح لانه وقاهم جنوبی عرب بمسالهو لوفيهم وسعدهم نعمه شمالی عرب بماسالوه ووفاهم واسعدهم منه ارض القرآن از سید سلیمان ندوی۔دارالاشاعت کراچی حصہ دوم صفحہ 352) اختلاف لغت اختلاف قراءت کی ایک شکل ایسی ہے جس میں ایک ہی لفظ مختلف قبائل میں مختلف معنوں میں رائج ہوتا ہے۔چنانچہ شمالی اور جنوبی عرب کی زبانوں میں ایک جیسے الفاظ کے معانی میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔مثلاً لفظ زو جنوبی عرب بادشاہ قلعه شمالی عرب والا ( ذوالقرنین : سینگوں والا ) مستقل آبادی خواہ گاؤں ہو یا شہر ارض القرآن از سید سلیمان ندوی۔دارالاشاعت کراچی حصہ دوم صفحہ 354) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی الصلح الموعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ مکہ میں ایک امیر عورت رہا کرتی تھی جس کا ایک یمنی ملازم تھا۔وہ عورت حقہ کی عادی تھی۔مکہ میں عام رواج تھا کہ حقہ کا وہ حصہ جس میں پانی ہوتا ہے شیشہ کا بنایا جاتا ہے اور اسی نسبت سے اسے شیشہ ہی کہتے ہیں۔اس عورت نے اپنے ملازم سے کہا کہ "غیر الشيشة ملازم نے پہلے تو اپنی طرف سے وفاداری سے کام لیتے ہوئے اپنی مالکہ کو پورے ادب کے ساتھ حکم واپس لینے کی درخواست کی۔مگر پھر مالکہ کے ناراض ہونے پر کہ وہ کیوں اس کا حکم نہیں مانتا ملازم نے باہر جا کر حقہ کا شیشہ توڑ دیا۔اس پر مالکہ نے اسے بُرا بھلا کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ملازم حیران تھا کہ اس نے تو پہلے ہی ایسا حکم ماننے میں پس و پیش کی مگر مالکہ کے ناراض ہونے پر اسے حکم مانا پڑا۔اب جب حکم مان لیا ہے تو مالکہ پھر ناراض ہو رہی ہے۔اس پر ایک واقف کار نے بتایا کہ تم اسی حجازی زبان میں کہ رہی ہو کہ غير الشيشة۔یعنی حقے کا پانی بدل دو اور یمنی میں اس کا مطلب ہے کہ شیشہ توڑ دو۔پس اس نے وہی کیا جو وہ سمجھا تھا۔( تفسیر کبیر جلد نم صفحہ 49 زیر آیت الیل :4) پس اگر ایک قبیلہ کے سامنے دوسرے قبیلہ کی زبان بولی جاتی تو سمجھنے میں مشکل کا امکان ہوتا تھا۔یا پھر معانی بدل جانے کا امکان ہوتا تھا۔چنانچہ اس قسم کے قبائلی لغوی اختلافات کو آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باریک بین نظر