اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 290
الذكر المحفوظ 290 وامقمر بولتے تھے۔قبیلہ قضاعہ کی یائے مشردہ یا مخفہ یا مفتوحہ۔ناقل ) کوج سے بدل دیتے تھے۔پیشی کی جگہ مشیج، بولتے تھے۔ہاں اس زمانہ میں اس اختلاف سے معنی میں کوئی تغیر نہیں ہوتا تھا۔جیسے ہندوستان میں دہلی والے قلم بولتے ہیں پنجاب والے کلم۔حیدر آباد والے دخلم، معنی ایک ہی ہے۔( عربی اور دوسری زبانوں میں فرق یہ ہے کہ دوسری زبانوں میں بولنے میں تو مختلف ہوتا ہے مگر لکھنے میں ایک طرح لکھا جاتا ہے۔مگر عربی میں لکھنے میں بھی فرق ہوتا ہے) اس قسم کے الفاظ جن کے اختلاف کی یہ مثالیں نقل کی گئی ہیں، جب غیر ممالک واقوام میں پہنچتے اور کچھ زمانہ گذر جاتا تو کیا ہوتا؟ مصحف عثمانی سے بعض صحابہ کے اس اختلاف کی مثال حدیث میں بتائی گئی ہے۔قریش تابوت بولتے تھے اور زید بن ثابت تا بوہ کہتے تھے۔(عبدالصمد صارم الازھری: تاریخ القرآن ، ایڈیشن 1985 ندیم یونس پرنٹر ز لا ہور، پبلشرز : مکتبہ معین الادب اردو بازار لا ہور صفحہ 82،81) اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔مثلاً د بنو تمیم لفظ کے پہلے ' کو 'ع' سے بدل دیتے ہیں۔جیسے اسلم کو عسلم بنو ہذیل 'ح' کو 'ع' سے بدل دیتے ہیں۔جیسے 'حرب' کو 'عرب بنو قضاعہ لفظ کی آخری 'ی' کو 'ج' سے بدل دیتے ہیں۔جیسے تمیمی کو ہیج، نبوسعد 'ع' کو 'م سے بدل دیتے ہیں۔جیسے عطی' کو مطی عام عربی میں جگ نہیں بولتے مگر بنو تمیم گ بولتے ہیں۔اور اہل مصر عام طور پر حرف 'ج' کو حرف گ سے بدل کر ادا کرتے ہیں۔اس طرح وہ 'ثلج، کوٹلگ کہتے ہیں اور جمیل کو گمیل“ کہتے ہیں۔ربیعہ اور مصر مؤنث میں ک، خطاب کے بعد 'ش' بڑھا دیتے ہیں جیسے 'علیک‘ کو علیکش“ پھر میری زبان والے الفاظ کو کسی قدر کھینچ کر ادا کرتے ہیں جیسے یا ابن العم کو یا بن معم اسی طرح شمالی اور جنوبی عرب میں اختلاف کی ایک شکل یہ ہے کہ شمالی عرب میں علامت جمع دن ہے جبکہ جنوبی عرب میں دم ہے۔اسی طرح شمالی عرب میں حرف تعریف ہے جبکہ جنوبی عرب میں دم ہے۔شمالی اور جنوبی عرب کی زبانوں میں حروف کے ادائیگی کے اختلاف کی وضاحت عربی عبارت کی اس مثال سے ہو جاتی ہے : جنوبی عرب وهم واجهو بنو كلبت هقنوا المقه شمالی عرب وهب و اخوه بنو کلبه اقنوا المقه