اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 283 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 283

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 283 علیہ وسلم کی تحریر سے ثابت ہوتی تھی خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے املاء اور لکھوانے ثابت ہوتی تھی۔پھر زبانی گواہ آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم نے رسول کریم سے ایسا سنا یا ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ایسا پڑھا ہے، وہی قطعی اور یقینی کبھی جاتی تھی اور اسی قسم کی شہادتوں کے بعد ہی قرآن کریم میں کوئی آیت شامل کی جاتی تھی پس وہ نسخہ قرآن جو ہمارے پاس ہے اور جس میں سورۃ الفیل اور سورۃ القریش کو الگ الگ لکھا ہوا ہے۔یہ خود اپنی ذات میں اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہ دونوں سورتیں الگ الگ ہیں۔اگر ایک شخص اپنے طور پر قرآن کریم لکھتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ دوسورتوں کے درمیان بسم اللہ اُس سے غلطی سے رہ جائے۔پس یہ کوئی دلیل نہیں جو پیش کی گئی ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ اس منفی دلیل کے علاوہ ایسی مثبت دلیل بھی موجود ہے کہ سورۃ قریش سے پہلے بسم اللہ کبھی ہوئی تھی اور اس وجہ سے اس کے الگ سورۃ ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور وہ یہ ہے کہ تمام مؤرخین اور تمام قراء اور تمام ماہرین فن صحابہ سے متفقہ طور پر یہ بات ثابت ہے کہ صرف ایک سورۃ البراءة ایسی ہے جس سے پہلے بسم اللہ نہیں لکھی گئی اور اس شہادت کے دینے والوں میں خود اُبی بن کعب بھی شامل ہیں۔اور کوئی سورۃ نہیں جس سے پہلے بسم اللہ نہ ہو تو اگر ابی ابن کعب نے اپنے نسخہ قرآن میں سورۃ قریش سے پہلے بسم اللہ نہیں لکھی تو یہ بات خود تواتر کے خلاف ہے اور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اُن سے غلطی ہوئی۔( تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 85،84 تفسیر القریش:2) اسی طرح ایک یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اُبی بن کعب کے صحیفہ میں دوسورتیں درج تھیں جو آج شائع ہونے والے قرآن کریم کے نسخوں میں درج نہیں کی جاتیں۔ان میں ایک تو وہ دُعا ہے جو دعائے قنوت کے نام سے امت میں معروف ہے۔دوسری دراصل ایک دعائے ختم القرآن ہے۔یہ صرف ایک وسوسہ ہے کہ جس کا حقیقت سے کوئی بھی تعلق نہیں۔نہ حضرت ابی کا اور نہ کسی اور صحابی کا یہ دعویٰ ملتا ہے کہ یہ دوسورتیں ہیں اور متن قرآن کا حصہ ہیں۔حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں مصحف ام کی تیاری کے وقت ان دو سورتوں کا کوئی جھگڑا پیدا نہیں ہوا۔حضرت عثمان کے دور میں ہونے والی تدوین میں حضرت ابی ابن کعب بھی شامل تھے۔لیکن کوئی روایت نہیں ملتی کہ آپ نے کہیں ایسا کہا ہو کہ یہ دوسورتیں ضرور شامل کی جائیں۔اسی طرح اُس دور میں کوئی صحابی ایسا نہیں ملتا کہ جو یہ اصرار کرتا ہو کہ ابی کے صحیفہ میں دوسورتیں زائد ہیں جو مصحف الامام میں درج نہیں کی گئیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ تو حضرت ابی کا یہ دعوی تھا کہ یہ سورتیں متن قرآن کا حصہ