اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 267 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 267

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 267 طرح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ بعض دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم قوم کی اصلاح کے لیے ایک حکم فرما دیا کرتے تھے لیکن وہ دائی حکم نہیں ہوتا تھا۔مثلاً بخاری میں ہی آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس ایک دفعہ وفد عبدالقیس آیا اور اُس نے کہا یا رسول اللہ ! ہمیں کوئی خاص ہدایت دیجیے۔آپ نے فرمایا۔فلاں فلاں چار قسم کے برتن استعمال نہ کیے جائیں (بخاری کتاب الایمان باب اداء الخمس من الايمان) ليكن قريباًسب مسلمان آج اُن برتنوں کو استعمال کرتے ہیں اور سب فقہاء کہتے ہیں کہ یہ برتن جائز ہیں اور اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اُن لوگوں میں رواج تھا کہ اس قسم کے برتنوں میں وہ شراب بناتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُن کی اس عادت کو چھڑانے کے لیے حکم دے دیا کہ یہ برتن استعمال نہ کیا کرو۔ان برتنوں کے استعمال نہ کرنے کی وجہ سے شراب بنانے کی عادت اُن میں سے جاتی رہی اور بعد میں تمام مسلمانوں کے اتفاق کے مطابق یہ حکم غیر ضروری ہو گیا اور اس قسم کے برتنوں کا استعمال سب مسلمانوں کے لیے جائز ہو گیا۔حدیثوں سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رجم کا حکم محض یہودی احکام کی اتباع میں دیا تھا۔( تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 255 کالم 1 زیرتفسیر آیت النور :3 ) ایک سوال یہ اُٹھ سکتا ہے کہ جب یہ شرعی حد نہیں تھی اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تخفیف یا معافی کے مجاز تھے تو پھر جب ایک معاملہ میں یہود نے ، جب کہ آپ رجم کی سزا دے رہے تھے، پس و پیش کی تو آپ نے کیوں انہیں معاف نہیں کیا یا ان کی سزا میں تخفیف نہیں کی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہود کے لیے یہ معاملہ شرعی حد کا ہی تھا۔کیونکہ ان کی شریعت کی کتاب میں زنا کی یہی سزا درج ہے اس لیے آپ یہود کے معاملہ میں جب کہ ان کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں آپ یہی فیصلہ کر سکتے تھے اور اس میں کمی بیشی کے مجاز نہیں تھے۔چنانچہ یہود کے اس معاملہ میں آپ نے انہی کے مطالبہ پر ان کی شرعی کتاب کے مطابق فیصلہ کیا تھا۔پس وہ فیصلہ آپ کا نہیں بلکہ ان کی شریعت کا تھا۔آپ صرف اس بات کے مجاز تھے کہ اپنی نگرانی میں اسے لاگو کر دیں۔اس سے بڑھ کر آپ کے پاس اختیار نہ تھا۔اگر یہود کے لیے یہ معاملہ شرعی نہ بھی ہوتا تو بھی آپ کے اس فیصلہ پر اور نہ ہی کسی اور فیصلہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ جب منصف ایک فیصلہ کرتا ہے تو اس کے سامنے بہت سے امور ہوتے ہیں اور وہ جرم کی نوعیت، مجرم کی حالت اور مدعی کے دعوئی اور دلائل اور حالات و واقعات کو مد نظر رکھ کر فیصلہ دیتا ہے۔پندرہ سو سال گزرنے کے