اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 266
الذكر المحفوظ 266 موجود ہے کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں ضرور اس کا ہاتھ کا تھا۔(بخاری کتاب المناقب باب ذکر اسامہ بن زید ) اس میں جرم ثابت ہونے کے بعد تو بہ کا سوال ہی نہیں۔کیونکہ اب تو سزا کا وقت ہوتا ہے۔اب اگر رجم کی سزا بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ اور اسلامی حدود میں سے ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کس طرح اس میں تخفیف کر سکتے تھے؟ پس قرآن کریم میں رجم کی سزا کسی بھی وقت موجود نہیں رہی۔رجم کا ذکر توریت میں ملتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے دور میں یہود میں فیصلے کرتے ہوئے تو ریت کے مطابق ہی ارشادات جاری فرمائے اور پھر اُس دور میں مدینہ کے ماحول کے مطابق اس سزا کولا کو کیا مگر شرعی حد کے طور پر نہیں بلکہ آپ کا طرز عمل یہی تھا کہ جب تک کوئی نئی الہی راہنمائی نہیں آتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم توریت کے مطابق فیصلہ کرتے۔چنانچہ معاشرتی اور سماجی اصلاح کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک سزا مقرر فرمائی جو یہود کے لیے تو شرعی حد ہی تھی مگر باقی لوگوں کے لیے محض ریاست کی طرف سے مقرر کی گئی ایک تعزیر تھی۔جس طرح ریاست کی مقرر کردہ سزا میں ریاست تخفیف کر سکتی ہے یا اس سزا کو معاف بھی کر سکتی ہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست کا نگران اعلیٰ ہونے کے حوالہ سے یہ فرمایا کہ جب ایک شخص کا رجوع کرنا ظاہر ہورہا تھا تو اسے چھوڑ دیتے کیونکہ وہ یہودی نہیں تھا اس لیے اُس کے لیے یہ سزا شرعی حد نہیں تھی لیکن اسلامی شرعی حدود کے معاملہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دینے یا تخفیف کرنے کا اختیار نہ تھا جیسا کہ اس حدیث میں ذکر ہے جس میں چور کو ہاتھ کاٹنے والی سزادی تھی۔(بخاری کتاب المناقب باب ذکر اسامه بن زید) باب اسماء حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پس یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قرآنی حکم یہی ہے کہ اگر کسی عورت یا مرد سے زنا صادر ہو جائے تو اس کو سو (100) کوڑے لگائے جائیں۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بائبل کی تعلیم کے مطابق اپنے استدلال سے یہودی مذہب کی سزا کو پہلے جاری کیا اس کے بعد چونکہ قرآنی حکم نازل ہو گیا اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حکم کو ہم محض عارضی حکم کہیں گے مستقل حکم نہیں کہیں گے کیونکہ مستقل حکم آپ کا وہی ہوتا ہے جس کے متعلق قرآنی حکم موجود نہ ہو۔اس کا ثبوت اس طرح بھی ملتا ہے کہ رسول کریم نے شروع میں قبلہ بھی یہودیوں کے طریق کے مطابق بیت المقدس کو ہی رکھا تھا۔لیکن جب قرآن کریم میں یہ حکم نازل ہوا کہ خانہ کعبہ کی طرف منہ کیا جائے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف منہ کر لیا۔چنانچہ دوسرے پارے کے شروع میں اس کا ذکر آتا ہے۔اسی