اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 263
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 263 حضرت عمرؓ کے علاوہ دیگر صحابہ نے بھی رجم کا ذکر کیا ہے لیکن کبھی یہ نہیں کہا کہ رجم کا حکم قر آنی تھا۔بلکہ اسے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی سمجھتے تھے۔چنانچہ کا تب وحی حضرت زید نے یہ آیت قرآن کریم میں نہیں لکھی بلکہ یہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو رجم کرنے کا حکم دیتے ہوئے سنا: چنانچہ روایت ہے کہ: قال زيد سمعت رسول الله ﷺ يقول الشيخ و الشيخة اذا زنيا فارجموهما البتة فقال عمر لما انزلت هذه أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت اكتبنيها قال شعبة فكأنه كره ذلك۔صلى الله۔(مسند احمد بن حنبل، مسند الانصار، حدیث زید بن ثابت عن النبي ( لا ) یعنی زید کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ایسا کہتے ہوئے سنا کہ جب ایک بوڑھا شخص اور بڑھیاز نا کریں تو انہیں رجم کر دیں حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جب یہ حکم ہوا تو میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یہ مجھے لکھ کر دے دیں۔اس پر آپ نے کراہت کا اظہار فرمایا۔پس اسی روایت میں ایک اور اندرونی گواہی اس بات پر ہے کہ آیت رجم متن قرآن کریم کا حصہ نہیں ہے۔حضرت زید فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم کو ایسا کہتے ہوئے سنا۔یعنی آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے اور آپ نے عام حدیث کے انداز میں ایک بات سنی جو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لکھنے کا حکم نہیں دیا اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم لکھوانا بھول گئے ہوں کیونکہ اسی حدیث میں ذکر ہے کہ جب حضرت عمر نے لکھنے کی درخواست کی تو آپ نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔گویا یہ آپ کے اسی حکم لا تكتبوا عنى سوى القرآن یعنی مجھ سے قرآن کے سوا کچھ نہ لکھو(مسند احمد بن حنبل کتاب الباقی مسند المكثرين باب مسند ابی سعید الخذریم) کے تحت آتا تھا اور یہ سوی القرآن تھی۔جو کا تب وحی کونہ لکھوائی گئی۔پس حضرت عمر کو کیوں لکھ کر دی جاتی ؟ حضرت عمر کا یہ کہنا کہ یہ آیت مجھے لکھ کر دی جائے بھی اس بات کو واضح کرتا ہے کہ آپ جانتے تھے کہ یہ قرآنی وحی نہیں ہے۔ورنہ قرآنی وحی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہر ایک کو لکھ کر نہیں دیا کرتے تھے صرف کاتبین کو لکھواتے تھے۔نیز آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف سے قرآنی وحی لکھ لینے کی واضح اجازت موجود تھی۔صحابہ خود اپنے لیے وحی تحریر کیا کرتے اور ان تحریرات کو آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے پیش کر کے ان کے صحیح ہونے کی تصدیق کروا لیتے۔حضرت عمر تو لکھنا پڑھنا بھی جانتے تھے۔اگر واقعی قرآن کریم کی ایسی کوئی آیت تھی تو کیوں نہ خود لکھ لی؟ پس لازماً آپ بھی اسے سوی القرآن سمجھتے تھے اور اس کا بلا اجازت لکھنا