اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 259
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 259 دوم یہ روایت اس لیے بھی قابل قبول نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد تو حضرت عائشہ کے حجرہ میں ایک جم جمگھٹا لگارہتا تھا کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات یہیں ہوئی تھی اور بعد از وفات جسد اطہر بھی یہیں رکھا گیا اور یہیں صحابہ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں حاضر ہوتے اور نماز جنازہ پڑھتے اور تدفین بھی یہیں عمل میں آئی۔پس تجہیز و تکفین کے انتظامات کہیں اور تو نہیں ہورہے تھے کہ ہزاروں صحابہ دوسرے علاقہ میں مصروف ہو گئے۔صحابہ کے عشق و وفا کی مثالیں آپ دیکھ چکے ہیں۔کیا ایسا ممکن ہے کہ اس وقت صحابہ نے آپ کے جسدِ اطہر کو اس طرح اکیلا چھوڑ دیا ہو کہ بکریاں وہاں چرتی پھریں۔کیا اس عورت کا قصہ نہیں پڑھا کہ جب غزوہ احد کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شہادت کی افواہ مدینہ میں گردش کرنے لگی تو کیسے وہ گرتی پڑتی شہر سے باہر تک پہنچ گئی۔اس کا بوڑھا باپ بچپن سے اس کا کفیل اور اس کا شوہر، جس کے سہارے زندگی کے دکھ کاٹے اور جس کے ساتھ عمر کے سکھ دیکھے، اسی جنگ میں شرکت کرنے گئے تھے۔اس کا بھائی، اس کے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک اس کی طاقت ، اسی جنگ میں شرکت کرنے گیا تھا۔اس کے بڑھاپے کا اکلوتا سہارا ، اس کا جواں سال بیٹا اسی جنگ میں شرکت کرنے گیا تھا۔کیا وہ ان کی تلاش میں گئی تھی ؟ نہیں! وہ آنکھیں آنے والوں میں ایک ہی چہرہ تلاش کر رہی تھیں۔ہر آنے والے سے پوچھتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت کی خبر دو! ایک کہتا ہے کہ مائی تیرا باپ شہید ہو گیا، تڑپ کر بولی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تو سناؤ! اس نے کہا تیرا بھائی بھی شہید ہو گیا ، پھر وہی پکار، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خیریت کی خبر تو دے دو! کہنے والے نے پھر کہا کہ تیرا خاوند بھی شہید ہو گیا مگر اس خبر نے بھی جو اس کے خرمنِ امن کو جلا کر خاکستر کر دینے کے لیے کافی تھی ، شمع نبوت کے پروانہ پر کوئی اثر نہ کیا اور وہی ایک التجا کہ کون جیا کون مرا اس سے مجھے سروکار نہیں۔خدارا رسول خدا کی خیریت کی خبر تو دے دو! جب بتایا گیا کہ وہ بخیریت ہیں تو گویا ایک گونہ آگ سے باہر نکل آئی اور ایک ایسی راحت و تسکین کی لہر اس کے رگ وریشہ میں سرایت کر گئی کہ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا: کل مصيبة بعدک جلل “ کہ آپ محفوظ ہیں تو مصائب آسان ہیں۔(السيرة النبوية لابن هشام، الجزء الثالث صفحه 31 دار التوفيقة للطباعة بالازهر) یہ تو صحابیات کی محبت کا حال تھا جنہیں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات مبارک کو اتنا قریب سے اور اتنی کثرت سے دیکھنے کا موقع نہیں ملا تھا جتنا مرد صحابہ کو ملا تھا۔صحابہ کے غم کا اندازہ لگائیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت کیا حال ہوگا۔صحابہ پر تو فر ماتم سے دیوانگی کی کیفیت طاری تھی۔حضرت عمر کو تو یقین ہی نہیں آرہا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم فوت بھی ہو سکتے ہیں۔آپ نے شمشیر برہنہ ہاتھ میں لے کر یہ اعلان کر دیا کہ جس نے ایسا کوئی بھی لفظ منہ سے نکالا میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔حسان بن ثابت انصاری کے اشعار بھی اسی