اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 258 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 258

الذكر المحفوظ 258 يقول "يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۔۔۔الآية ( بخاری کتاب تفسير القرآن باب يا أيها الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك) یعنی جس نے تجھے کوئی ایسی حدیث سنائی کہ رسول کریم نے وحی الہی میں سے کوئی آیت چھپا کر رکھی تھی تو وہ جھوٹا ہے کیونکہ اللہ تعالی تو فرماتا ہے "يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ ربِّكَ۔۔۔الاية “ یعنی اے رسول جو کچھ تیرے رب نے تجھ پر نازل کیا ہے اسے آگے پہنچا دے۔پس ایک طرف حضرت عائشہ یہ فتوی دے رہی ہوں جو مختلف سندوں اور ایک تو اتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے اور علما کا اتفاق ہے کہ یہ فتویٰ حضرت عائشہ کا ہی ہے اور دوسری طرف ایک کمزور اور درجہ استناد سے گری ہوئی روایت پیش کی جارہی ہو تو عقل سلیم کیا گواہی دیتی ہے کہ کون سی روایت درست تسلیم کی جائے ؟ مغربی محققین تو حسب عادت اور اعتراض بنانے کے لیے حسب ضرورت کمز ور روایت سے ہی سہارا لیں گے۔اس قسم کی روایات کے بارہ میں علامہ زمختشر می لکھتے ہیں: و اما ما تحكى ان تلك الزيادة كانت في صحيفة في بيت عائشة الله عنها فاكلتها الداجن فمن تاليفات الملاحدة و الروافض رضی (تفسیر کشاف، الجزء الثالث مقدمه تفسير سورة الاحزاب) یعنی یہ کہنا کہ قرآن کریم میں اضافہ تھا اور وہ اس صحیفہ میں تھا جو حضرت عائشہ کے گھر میں تھا جس کو بکری کھا گئی تو یہ تو ملاحدہ اور روافض کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔علامہ آلوسی روح المعانی میں سورۃ الاحزاب کی تفسیر کے شروع میں لکھتے ہیں: والحق ان من كل خبر ظاهره ضياع الشئ من القرآن الا موضوع او مؤول (جز 20 صفحه 15 تفسير سورة الاحزاب ـ مكتبه امدادیه ملتان) یعنی حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ خبر جس میں قرآن کریم میں کچھ آیات یا حصوں کا ضائع ہونا بیان کیا گیا ہے وہ یا تو گھڑی گئی ہے یا پھر اپنی جگہ سے پھیر کر بیان کی گئی ہے۔یہ روایت درایت کے اصولوں کے مطابق بھی غلط ہے کیونکہ اول تو کثرت سے اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ حضرت عمر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر باصرار کہتے ہیں کہ انہیں رجم کے بارہ میں آیت لکھ دیں مگر آپ اس بات کو ناپسند فرماتے ہیں۔ساتھ ہی کا تب وحی حضرت زید بن ثابت بیٹھے ہیں انہیں بھی نہیں لکھواتے(مسند احمد بن حنبل، مسند الانصار، حديث زيد بن ثابت عن النبی ﷺ اور خاموشی کے ساتھ جاکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھوا دیتے ہیں۔اور پھر سالہال سال یہ آیت تکیہ کے نیچے پڑی رہتی ہے مگر صل الله متن قرآن میں درج نہیں فرماتے۔کیا یہ فعل رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے؟