اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 257
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 257 باوجود اس کے جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آج قرآن میں صرف سو کوڑوں کی سزا کا ذکر ہے۔یہ بات ایک پہیلی بن کر رہ جاتی ہے جب ہم اس نہج سے دیکھتے ہیں کہ اگر یہ قصہ درست نہیں تو پھر کیوں آج بھی اسلامی قانون کے مطابق رجم کا ہی فتویٰ دیا جاتا ہے جبکہ قرآن تو صرف کوڑے مارنے کا کہتا ہے۔اس روایت کے مطابق 100 سے زائد آیات گمشدہ ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ بالا اعتراض میں ابن وراق نے حضرت عائشہؓ سے مروی اس روایت کا تو ذکر کر دیا مگر جان بوجھ کر حضرت عمرؓ سے مروی اسی قسم کی دوسری روایات کا ذکر نہیں کیا۔حالانکہ کتب تاریخ میں رجم کے معاملہ میں زیادہ تر روایات حضرت عمرؓ کے حوالہ سے ملتی ہیں جو زیادہ مستند اور زیادہ معروف ہیں۔ابنِ وراق کی اس حرکت کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کی طرف منسوب روایات کے مطالعہ سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ آپ کے نزدیک آیت رجم قرآن کریم کا حصہ نہیں تھی۔ابنِ وراق چونکہ حضرت عائشہ کی روایت کو اپنے اعتراض کی بنیاد بناتا ہے اس لیے ہم پہلے اس روایت کا تجزیہ کرتے ہیں: کہتا ہے کہ نبی (ع) کی زوجہ محترمہ حضرت) عائشہؓ سے مروی ہے کہ کبھی ایک آیت رجم بھی ہوا کرتی تھی جس میں زنا کی سزار جم یعنی سنگساری مقر تھی“ حضرت عائشہؓ سے مروی روایت عن عائشة قالت لقد نزلت آية الرجم و رضاعة الكبير و لقد كان في صحيفة تحت سريري فلما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم و تشاغلنا بموته دخل داجن فاكلها (سنن ابن ماجه كتاب النكاح باب رضاع الكبير) یعنی حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رجم کی آیت اور بڑے شخص کی رضاعت کے بارہ میں آیت ایک صحیفہ میں میرے بستر کے نیچے پڑی تھی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو ہمیں آپ کی تجہیز وتکفین میں مصروفیت کے باعث خیال نہ رہا اور پالتو بکری آئی اوروہ صحیفہ کھا گئی۔اس ضمن میں عرض ہے کہ اول تو یہ بات ناممکن ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی آیت نازل ہو اور آپ نے اس کی اشاعت نہ کی ہو۔تدوین قرآن کے باب میں ہم دیکھ آئے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی تازہ وحی کے نزول کے ساتھ ہی کا تب کو بلا کر لکھواتے اور حفاظ کو حفظ کرواتے اور اس کی کثرت سے اشاعت ہوتی۔کیسے ممکن ہے کہ رجم کی آیت نازل ہوئی ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کی اشاعت نہ کی ہو؟ صرف حضرت عائشہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کو اس کا علم ہو۔حضرت عائشہ تو فرماتی ہیں: من حدثك ان محمدا كتم شيئا مما انزل الله عليه فقد كذب والله