اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 255 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 255

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 255 جمع کیے جانے کی ترتیب خدا تعالیٰ نے مقررفرمائی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگرانی میں یہ ترتیب لگوائی جس میں صحابہ کے دور میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور نہ ہی بعد میں کبھی بدلی گئی۔نیز یہ کہ قرآن کریم با ربط کلام ہے۔جس میں ہر لفظ دوسرے لفظ سے اور ہر آیت دوسری آیت سے اور ہر سورت دوسری سورت سے ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔علاوہ ازیں اس کی معنوی ترتیب میں انسانی فطرت کے اختلاف کے پیش نظر بہت تنوع ہے۔قرآن کریم کی اجزاء اور رکوعوں میں تقسیم گزشتہ عنوان کے تحت صحیح بخاری کی یہ حدیث پیش کی گئی جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کو ایک ماہ میں قرآن کریم کی تلاوت مکمل کرنے کا حکم تو دیا گر قرآن کریم کو میں حصوں میں تقسیم نہ کیا گویا یہ تقسیم امت کی صوابدید پر چھوڑ دی۔بعض کے نزدیک پاروں یا اجزا میں قرآن کریم کی تقسیم کی بنیاد یہ حدیث ہے۔اسی لیے رمضان المبارک میں بھی تلاوت قرآن کا کم از کم ایک دور مکمل کرنا مستحب سمجھا جاتا ہے۔مگر یہ بہر حال ثابت ہے کہ آنحضور نے قرآن کریم کو اجزا یا پاروں میں قسیم نہیں کیا تھا بلکہ تقسیم امت کی کی ہوئی ہے۔پاروں کی اس تقسیم میں فرق ہے۔بعض عرب ممالک سے چھپنے والے قرآن کریم کے نسخوں میں مثلاً مصر سے چھپنے والے نسخہ جات میں ساتواں پارہ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاس سے شروع ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں چھپنے والے نسخوں میں اس آیت سے ایک آیت بعد وَ إِذَا سَمِعُوا سے شروع ہوتا ہے۔اسی طرح مصر سے چھپنے والے نسخوں میں چودہواں پارہ المر تلک سے شروع ہوتا ہے اور ہمارے ہاں چھپنے والے نسخہ جات میں رُبَمَا يُوَدُّ الَّذِينَ سے شروع ہوتا ہے۔اسی طرح بیسویں پارے کا شروع، تئیسویں کا شروع ، اور بعض نسخوں میں انیسویں اور چھبیسویں کے شروع میں فرق ہے مگر اس سے یہ ہر گز مراد نہیں ہے کہ قرآن کریم میں کوئی کمی بیشی ہوئی ہے۔یہ صرف اس تقسیم کا فرق ہے جو کہ الہامی نہیں بلکہ صحابہ نے یا امت نے آسانی کی خاطر کی۔رکوع کی تقسیم کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ یہ کام حجاج کے زمانہ میں ہوا۔مگر بعض روایات ایسی بھی ملتی ہیں کہ یہ تقسیم بھی حضرت عثمان نے ہی کی تھی۔(عرض الانوار: 45) بیان کیا جاتا ہے کہ پاروں کی تقسیم کی طرح نماز تراویح کے ہر رکوع میں ایک خاص حصہ قرآن پڑھنے کے لیے ایک تقسیم کی گئی اور اسے رکوع کا نام دیا گیا۔لیلتہ القدر کے 27 رمضان تک متوقع ہونے کے لحاظ سے 27 رمضان تک تراویح میں قرآن کریم کی تلاوت مکمل کرنا مناسب سمجھا جاتا ہے اور اس طرح قرآن کریم کو 20 رکعات روزانہ کے حساب سے 27 دنوں میں ختم کرنے کے لیے 540 رکوعوں میں تقسیم کیا گیا۔واللہ اعلم۔امام ابوعمر و عثمان الوافی ، ( متوفی 444ھ ) جو اندلس کے کبار علما میں شمار ہوتے ہیں، کا خیال ہے کہ رکوعوں کی تقسیم کا کام بھی صحابہ کر چکے تھے۔(تفسير القرطبی جزو اوّل صفحه 64 از ابو عبدالله محمد بن احمد القرطبی ، متوفی 671ه ناشر دار الكاتب العربيه قاهره طبع سوم - سنا اشاعت 1967ء) _