اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 254
الذكر المحفوظ 254 تکرار ایک بات کو حافظہ میں محفوظ کر دیتی ہے۔اسی طرح ایک روحانی تعلق بھی ہے اس میں بھی تکرار کی حاجت ہے۔بدوں تکرار وہ روحانی پیوند اور رشتہ قائم نہیں رہتا۔حضرت امام جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک آیت اتنی مرتبہ پڑھتا ہوں کہ وہ آخروجی ہو جاتی ہے۔صوفی بھی اسی طرف گئے ہیں اور وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا کے یہ معنے ہیں کہ اس قدرذ کر کرو کہ گویا اللہ تعالیٰ کا نام کنٹھ ہو جائے۔انبیاء علیہم السلام کے طرز کلام میں یہ بات عام ہوتی ہے کہ وہ ایک امر کو بار بار اور مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں۔ان کی اصل غرض یہی ہوتی ہے کہ تا مخلوق کو نفع پہنچے۔میں خود دیکھتا ہوں اور میری کتابیں پڑھنے والے جانتے ہیں کہ اگر چار صفحے میری کسی کتاب کے دیکھے جاویں تو ان میں ایک ہی امر کا ذکر پچاس مرتبہ آئے گا اور میری غرض یہی ہوتی ہے کہ شاید پہلے مقام پر اس نے غور نہ کیا ہو اور یونہی سرسری طور سے گذر گیا ہو۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 455 تا 457) اسی طرح اسالیب ادب کے اعتبار سے اس جگہ قرآن کریم حسنِ بیان کی اعلیٰ مثال پیش کر رہا ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔اسالیب حسن بیان کے اعتبار سے اہلِ ادب عربی نے کلام کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے۔1 - الاسلوب العلمی 2۔الاسلوب الادبی 3۔الاسلوب الخطابی سورۃ الرحمان میں آیت فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ کو اسلوب خطابی میں شمار کیا جاتا ہے۔اس اسلوب کے بارہ میں لکھا ہے: من اظهر المميزات هذا الاسلوب التكرار و استعمال المترادفات، و 6 ضرب الامثال و اختيار الكلمات الجزلة ذات الزنين البلاغه الواضحه : 16) یعنی اس اسلوب کی ممتاز خصوصیات میں تکرار ، مترادفات کا استعمال اور ضرب الامثال، پر شوکت الفاظ، فقرات اور رقت آمیز کلمات کا استعمال شامل ہے۔پس جہاں قرآن کریم اعلیٰ ترین اسالیب ادب استعمال کرتا ہے وہیں ان نام نہاد عر بی سٹائل پہنچانے والے مستشرقین کی اصلیت مزید کھل کر سامنے آجاتی ہے۔خلاصه خلاصہ یہ کہ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں لکھا اور حفظ کیا گیا حضرت ابوبکر نے اندرونی اور بیرونی شہادتوں اور ہر قسم کی گواہی کے التزام کے ساتھ ایک مجلد شکل میں پیش کیا۔اس کے نزول کی ترتیب انتہائی گہری حکمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے واقعات اور حالات حاضرہ کے مطابق تھی جبکہ