اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 237
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 237 پس تو حید الہی اور عبادت الہی اور تقویٰ قرآن کریم کے نزول کا مقصد ہیں۔قرآن کریم کی ظاہری ترتیب، اس کی معنوی ترتیب سمجھنے کے لیے ظاہری ترتیب کی اہمیت اور مقصد نزول کی وضاحت کے بعد قرآن کریم کی معنوی ترتیب اور اس کے دستور بیان کو سمجھنا آسان ہوگا۔قرآن کریم کا اسلوب بیان بطریق درس و تعلیم اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کریم کے مقصد کے حصول کے لیے جو اسلوب اپنایا ہے اسے درس سے تشبیہ دی ہے۔فرماتا ہے: وَ كَذلِكَ نُصَرِفُ الآيَتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَنَّهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ: (الانعام: 106) اور اسی طرح ہم نشانات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تا کہ وہ کہہ اٹھیں کہ تو نے خوب سیکھا اور خوب سکھایا اور تا کہ ہم صاحب علم لوگوں پر اس ( مضمون ) کو خوب روشن کر دیں۔پس قرآن کریم ایک تعلیم بھی ہے اور درس بھی۔اس میں ہر ضروری مضمون اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ مکمل وضاحت سے کھول کھول کر بیان کر دیا گیا ہے اور مقصد یہ ہے کہ مضمون کو امثال اور واقعات کی روشنی میں تاریخی اور فطرتی شہادات سے سجا کر اس طرح پیش کیا جائے کہ وہ قاری اور سامع کی علمی، روحانی اور ذوقی تسکین کے ساتھ ساتھ اس کے دل میں بھی ثبت ہوتا چلا جائے۔پس قرآن کریم میں بیان شدہ کسی بھی مضمون کی جزئیات کو ایک درس کے طور پر بار بار مختلف پیرائے میں دہرا کر اور مختلف انداز سے اس طرح بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کے مضامین طالب کے دل و دماغ میں راسخ ہوتے چلے جائیں۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا کا فصیح کلام معارف حقہ کو کمال ایجاز سے، کمال ترتیب سے، کمال صفائی اور خوش بیانی سے لکھتا ہے اور وہ طریق اختیار کرتا ہے جس سے دلوں پر اعلیٰ درجہ کا اثر پڑے اور تھوڑی عبارت میں وہ علوم الہیہ سا جائیں جن پر دنیا کی ابتدا سے کسی کتاب یا دفتر نے احاطہ نہیں کیا۔یہی حقیقی فصاحت بلاغت ہے جو تکمیل نفس انسانی کے لیے ممدو معاون ہے جس کے ذریعہ سے حق کے طالب کمال مطلوب تک پہنچتے ہیں اور یہی وہ صفت ربانی ہے جس کا انجام پذیر ہونا بجز الہی طاقت اور اس کے علم وسیع کے ممکن نہیں۔( براہین احمدیہ چہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 466-464 حاشیہ نمبر 3)