اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 224 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 224

الذكر المحفوظ 224 نزاکت اور اپنے ادب کی بلندی اور اپنے ذخیرہ الفاظ کی کثرت کی وجہ سے سب دنیا کے لوگوں پر فوقیت رکھتے ہیں اور عرب قوم ادب کی اس قدر دلدادہ ہے کہ زہر اور زر اور علوشان جیسی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی اشیاء بھی اُن کے نزدیک ادب کے مقابلہ پر پیچ ہیں۔وہ اپنے شاعروں کو پیغمبر اور اپنے ادیبوں کو دیوتا سمجھنے والے لوگ جن میں ادب اور ادیب کو ترقی کرنے کا بہترین موقع مل چکا تھا جب قرآن کو دیکھتے ہیں تو زبانوں پر مہر لگ جاتی ہے اور آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔باوجود اس کے کہ نزول قرآن کریم کا زمانہ ان کا بہترین ادبی زمانہ تھا۔یا تو عرب کے چوٹی کے ادیب قریب میں ہی گزر چکے تھے یا ابھی زندہ موجود تھے۔وہ جب قرآن کریم کو سنتے ہیں تو بے اختیار اس کے سحر ہونے کا شور مچادیتے ہیں۔مگر وہی لفظ جو اس کے جھوٹا ہونے کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔اسی نے ظاہر کر دیا کہ عرب کا متفقہ فیصلہ تھا کہ قرآن کریم کا حسن انسانی قوت تخلیق سے بالا تھا۔انسانی دماغ نے بہتر سے بہتر ادبی مقالات بنائے تھے۔مگر اس جگہ اسے اپنے عجز کا اعتراف کیے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔فسبحان الله احسن الخالقین۔ا اس کے مضامین کا بھی یہی حال ہے ان کی بلندی ، ان کی وسعت، ان کی ہمہ گیری، ان کا انسانی دماغ کے گوشوں کو منور کر دینا، انسانی قلوب کی گہرائیوں میں داخل ہو جانا ، نرمی پیدا کرنا تو اس قدر کہ فرعونیت کے ستونوں پر لرزہ طاری ہو جائے ، جرات پیدا کرنا تو اس حد تک کہ بنی اسرائیل کے قلوب بھی ابراہیمی ایمان محسوس کرنے لگیں، عفو کو بیان کرے تو اس طرح کہ عیسی علیہ السلام بھی انگشت بدنداں ہو جائیں ، سزا کی ضرورت ظاہر کرے تو اس طرح کہ موسی کی روح بھی صل علی کہہ اُٹھے غرض بغیر اس کے مضامین کی تفاصیل میں پڑنے کے ہر انسان سمجھ سکتا ہے کہ وہ ایک سمندر ہے جس کا کنارہ نہیں ایک باغ ہے جس کے پھلوں کا خاتمہ نہیں۔آج تک اُس کے حسن کو دیکھ کر لوگ یہ کہتے چلے جاتے ہیں کہ یہ کلام بہت سے لوگوں نے مل کر بنایا ہے مگر کیا یہ خود اقرار حسن نہیں؟ ( تفسیر کبیر جلد ۳ صفحه 469 زیرتفسیر سورۃ ابراہیم :25) مشہور مستشرق قلب کے حتی لکھتا ہے: یہ کتاب ایک قوی اور زندہ آواز ہے۔اس کو زبان سے پڑھنے اور اس کے اصل متن کوسننے سے اس کی حقیقی قدرومنزلت پہچانی جاسکتی ہے۔اس کی قوت تاثیر زیادہ تر اس کے منفر دانداز لجن، ترتیل، اور الفاظ کے سُبک پن میں مضمر ہے۔اس کی یہ خصوصیت ترجمہ میں منتقل کی ہی نہیں جاسکتیں۔تاریخ عرب از فلپ کے حتی ، ناشر : آصف جاوید برائے نگارشات ، باب 4 صفحہ 36 )