اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 223 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 223

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 223 نازل ہوئی ہے اور اس کی کمال بلاغت پر تمام اہل زبان بلکہ سبعہ معلقہ کے شعراء جیسے اتفاق کر چکے ہیں۔تو کیا ایسا مسلم الثبوت کلام کسی نادان اجنبی وژولیدہ زبان والے کے انکار سے جو که لیاقت فن سخن سے محض بے نصیب اور تو غل علوم عربیہ سے بالکل بے بہرہ بلکہ کسی ادنیٰ عربی آدمی کے مقابلہ پر بولنے سے عاجز ہے قابل اعتراض ٹھہر سکتا ہے بلکہ ایسے لوگ جو اپنی حیثیت سے بڑھ کر بات کرتے ہیں خود اپنی نادانی دکھلاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اہل زبان کی شہادت کے برخلاف اور بڑے بڑے نامی شاعروں کی گواہی کے مخالف کوئی نکتہ چینی کرنا حقیقت میں اپنی جہالت اور خطر فطرتی دکھلانا ہے۔بھلا عماد الدین پادری کسی عربی آدمی کے مقابلہ پر کسی دینی یا دنیوی معاملہ میں ذرا ایک آدھ گھنٹہ تک ہم کو بول کر تو دکھاوے۔تا اول یہی لوگوں پر کھلے کہ اس کو سیدھی سادھی اور بامحاورہ اہل عرب کے مذاق پر بات چیت کرنی آتی ہے یا نہیں۔کیونکہ ہم کو یقین ہے کہ اس کو ہرگز نہیں آتی اور ہم یہ یقین تمام جانتے ہیں کہ اگر ہم کسی عربی آدمی کو اس کے سامنے بولنے کے لیے پیش کریں تو وہ عربوں کی طرح اور ان کے مذاق پر ایک چھوٹا سا قصہ بھی بیان نہ کر سکے اور جہالت کے کیچڑ میں پھنسا رہ جائے اور اگر شک ہے۔تو اس کو قسم ہے کہ آزما کر دیکھ لے! پھر جس حالت میں وہ عربوں کے سامنے بھی بول نہیں سکتے اور فی الفور گونگا بننے کے لیے طیار ہیں۔تو پھر ان عیسائیوں اور آریوں کی ایسی سمجھ پر ہزار حیف اور دو ہزار لعنت ہے کہ جو ایسے نادان کی تالیف پر اعتماد کر کے اس بے مثل کتاب کی بلاغت پر اعتراض کرتے ہیں کہ جس نے سید العرب پر نازل ہو کر عرب کے تمام فصیحوں اور بلیغوں سے اپنی عظمت شان کا اقرار کرایا اور جس کے نازل ہونے سے سبعہ معلقہ مکہ کے دروازہ پر سے اتارا گیا اور معلقہ مذکورہ کے شاعروں میں سے جو شاعر اس وقت بقید حیات تھا۔وہ بلا توقف اس کتاب پر ایمان لایا۔براین حد به جلد چهارم حاشیه نبر گیاره وحانی خزائن جلد اول صفحہ 432,433ایڈیشن اول صفحہ 362,363) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ المسح الثاني لمصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کا ( یعنی قرآن کا ) ظاہری حسن اتنا نمایاں ہے کہ کوئی کتاب اس کے سامنے ٹھہر ہی نہیں سکتی۔الفاظ کی خوبی، بندش کی چستی محاورہ کا برمحل استعمال ، عبارت کا تسلسل مضمون کی رفعت، معانی کی وسعت ایک سے ایک بڑھ کر خوبیاں ہیں کہ انسان نہیں کہ سکتا کہ اُسے سرا ہے یا اس کی تعریف کرے۔انہی عربی الفاظ سے وہ بنا ہے جو ہزاروں لاکھوں اور کتب میں استعمال ہوئے ہیں مگر کیا مجال کہ کوئی اور کتاب اس کے قریب تک پہنچ سکتی ہو۔عرب اپنے خیالات کی