اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 212 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 212

الذكر المحفوظ 212 تھی کہ آئندہ کی مستقل ضروریات کے مطابق اُسے ترتیب دی جاوے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔(سيرة خاتم النبین حصہ دوم زیر عنوان ترتیب قرآن صفحه 536) اس ضمن میں یہ بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ قرآن کی ترتیب حفاظت قرآن کی خاطر حکیم خدا کی طرف سے اختیار کیا گیا ایک غیر معمولی اور پُر حکمت طریق تھا۔باوجود یکہ قرآن کریم کی حفاظت کا اتنا غیر معمولی انتظام تھا پھر بھی یہ طریق اختیار کر کے اسے محفوظ تر بنادیا گیا۔اس حقیقت کے ساتھ کہ قرآن انتہائی معمولی رفتار سے اور آہستگی کے ساتھ نازل ہور ہا تھا پھر بھی خدا تعالیٰ نے اس کو ذہنوں میں راسخ کرنے اور صحابہ کو اس کے معانی اور مفاہیم از بر کروانے کے لیے اور اُس کی ہر آیت کو مستند ترین بنانے اور ہر ایک آیت کے وسیع مضامین سمجھانے کا یہ انتظام کیا کہ اسے اس زمانہ کے پیش آمدہ حالات و واقعات کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کر کے پیش کیا کہ ناممکن تھا کہ کوئی آیت نازل ہوتی اور صحابہ اس کے مضامین کو نہ سمجھتے۔ہر آیت ایک لڑی میں پروئی ہوئی اور ایک گلدستے میں شامل کیا جانے والا پھول بنتی ہوئی اور ساتھ ساتھ تاریخ کا حصہ بنتی ہوئی نازل ہورہی تھی۔گویا قرآن کریم کی ہر آیت کے سمجھانے کا خدا تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا کہ نازل تو قرآن نے بہر حال ہونا تھا لیکن لوگوں کو سمجھانے کی خاطر کسی نا کسی واقعہ یا مختلف واقعات کے ساتھ ملا کر آیت نازل کی جاتی تھی اس لیے آج کثرت کے ساتھ مختلف آیات کے مواقع النزول روایات میں ملتے ہیں۔یوں قرآن کریم کا ہر ایک لفظ تاریخ کا ایک نا قابل تردید اور مستند ترین حصہ بھی بن رہا تھا اور اس کے مضامین روز مرہ حالات و واقعات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے آسانی کے ساتھ ذہنوں میں راسخ ہورہے تھے اور ساتھ ساتھ یہ کلام اپنی ظاہری صورت میں حفظ کے ذریعہ سینوں میں محفوظ ہور ہا تھا۔چنانچہ آج کے ترقی یافتہ دور میں علمی دُنیا نے جو طریقہ تدریس اپنایا ہے اللہ تعالیٰ نے پندرہ سو سال قبل قرآن کریم اس طریقہ کی انتہائی ترقی یافتہ شکل کے مطابق سکھایا جو ہر لحاظ سے کامل تھی۔آج کسی بھی اچھے تدریسی ادارہ میں جائیں وہاں صرف تھیوری پر انحصار نہیں کیا جاتا بلکہ ساتھ ساتھ پریکٹیکل بھی کروائے جاتے ہیں۔دیکھا جائے تو وہ پریکٹیکل بھی ایک مصنوعی ماحول پیدا کر کے کروائے جاتے ہیں جو کہ عملی زندگی کے فوری اور ہنگامی حالات سے سو فیصد مطابق بھی نہیں ہوتے۔پس جب لاکھوں کروڑوں روپیہ خرچ کر کے مصنوعی ماحول بنا کر تھیوری کو از بر کروانے کا انتظام کیا جاتا ہے تو پھر قرآن کریم کی حفاظت کے اس طریقہ پر کیوں اعتراض کیا جائے جو قطعاً مصنوعی نہیں جس میں تصنع نام کو نہیں اور جو حقیقی زندگی کے عین مطابق بلکہ حقیقی زندگی کا حصہ ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو بند لیبارٹریوں میں نہیں بلکہ مخالفین کی آنکھوں کے سامنے معرض وجود میں آئی۔قرآن کریم کی ہر آیت کا نزول مومنین اور مخالفین کی نظروں کے سامنے اعلانیہ طور پر ہورہا تھا اور انہیں پورا پورا موقع دیا جار ہا تھا کہ کسی بھی قسم کا اعتراض ہو تو پیش کریں۔پھر نزول کی رفتار اتنی