اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 202
الذكر المحفوظ 202 گیا۔ہاں اس کا پڑھنا اور جمع کرنا ہم سب کے ذمہ ہے۔“ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۔14اپریل 1912ء بحوالہ حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ 272) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ تحریری شکل میں آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں قرآن کریم دے گئے تھے باقی ہر وہ شخص جو قرآن کریم کی خدمت کرتا ہے وہ جمع قرآن میں شریک ہے اور اس طرح جمع قرآن کا فریضہ ساری امت مسلمہ سرانجام دے رہی ہے۔یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اگر سورتوں کی ترتیب اللہ تعالیٰ کی لگوائی ہوئی نہ ہوتی بلکہ امت نے اپنی مرضی سے لگائی ہوتی تو پھر قرین قیاس ہے کہ بعد میں کبھی ترتیب میں بہتری کی گنجائش نکل آتی اور جو شخص کسی ترتیب کو زیادہ درست سمجھتا اسے اختیار کر لیتا۔اس طرح گویا قرآن کریم کی ترتیب لگانے کی ہر کسی کو اجازت مل جاتی۔مگر آج تک ایسا نہ ہوا جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قرآن کریم کی موجودہ ترتیب بھی خدا تعالیٰ کی نازل کردہ ہے اور قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کی طرح اس کی ترتیب کی حفاظت بھی خود خدا تعالیٰ فرمارہا ہے اور جس طرح قرآن کریم میں اور کوئی تبدیلی ممکن نہیں اسی طرح اس کی ترتیب میں بھی کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔اگر یہ ترتیب خدا کی لگائی گئی نہ ہوتی بلکہ ابو بکڑ نے لگوائی ہوتی تو پھر اب تک محفوظ نہ ہوتی اور مختلف ادوار میں اس کی مختلف ترتیبیں لگانے کی کوشش ضرور کی جاتی۔خصوصاً جبکہ مختلف ادوار میں ایسے مسلم اور غیر مسلم علما موجود رہے ہیں جن کا یہ خیال تھا کہ ترتیب سور تو قیفی نہیں ہے۔پس قرآن کریم کے الفاظ اور آیات کی حفاظت کی طرح اس کی ترتیب کی حفاظت بھی اس کے تو قیفی ہونے کی ایک لطیف دلیل ہے۔پھر یہ کہنا عقلاً بھی غلط ہے اور ہر گز قابل قبول نہیں کہ حضرت ابوبکر نے قرآن تحریر تو کروایا مگر اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لگوائی ہوئی ترتیب کے مطابق ایک جلد میں جمع کر کے مکمل نہ کیا۔ایک طرف یہ علماء کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے اسی لیے قرآن کریم جمع کرنے کا حکم دیا تھا کہ کہیں قرآن کریم کی تحریرات ضائع نہ ہو جائیں اور دوسری طرف آپ کے بارہ یہ موقف رکھنا کہ پھر ان اوراق کو پراگندہ چھوڑ دیا اور جلد نہ کروایا سراسر نا انصافی ہے۔نہ تو پہلے سے موجود تحریرات کو جلد کیا اور نہ ہی اس نے نسخہ کو جلد کیا تو پھر ان علماء کے نزدیک آپ نے کام کیا کیا ؟ حضرت ابو بکر جیسے صاحب فراست و بصیرت نے اتنے عظیم الشان کام کا بیڑہ اُٹھایا ہو اور ایک زبر دست تحریک پر یہ سب شروع کیا ہو اور خاص نازک حالات میں اور ان کے نتیجہ میں ممکنہ ہولناک مصائب کے پیش نظر کیا ہو اور اس یقین پر کیا ہو کہ حفاظت قرآن کے ضمن میں ایک بہت اہم قدم اٹھایا جارہا ہے۔پھر وہ کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ دوم اور خاص مشیر نبوی کا ارفع و اعلیٰ مقام رکھنے والے