اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 201 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 201

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب شکل میں جمع کیا۔201 کتاب المصاحف میں بہت سی اسناد کے ساتھ حضرت علی کا یہ قول درج ہے کہ: عن على قال اعظم الناس اجرا في المصاحف ابوبكر فانه اول من جمع ابن ابی داؤد کتاب المصاحف الجزء الاول سفحه 5) بين اللوحين قرآن کریم کے معاملہ میں حضرت ابو بکر کا اجر سب سے عظیم ہے کیونکہ انہوں نے سب سے پہلے قرآن کریم کو مجلد شکل میں پیش فرمایا۔الاتقان میں قاضی ابوبکر کا قول ان کی کتاب الانتصار کے حوالہ سے درج ہے کہ: حضرت عثمان نے وہ کام نہیں کیا تھا جو حضرت ابوبکر نے کیا تھا اور حضرت ابوبکر نے یہ کام کیا تھا کہ قرآن مجید کو بَینَ لَوْحَيْن ، یعنی ایک جلد میں جمع کیا تھا۔(الاتقان في علوم القرآن الجزء الأوّل نوع الثامن عشر جمعه و ترتيبه صفحه 61) مندرجہ بالا مستند روایات سے یہ حقیقت بپایہ ثبوت پہنچ جاتی ہے کہ حضرت ابو بکر کے دورِ خلافت میں جمع قرآن کے وقت قرآن کریم کی سورتوں کی کوئی نئی ترتیب نہیں لگائی گئی بلکہ وہی ترتیب قائم رہی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق لگائی تھی اور جو آپ کے عہد مبارک میں صحابہ میں رائج اور مستعمل تھی۔کتاب المصاحف میں ابن ابی داؤد یہ روایت درج کرتے ہیں کہ جمع حضرت ابو بکڑ نے کیا اور حضرت عثمان کے بارہ میں لکھتے ہیں: فوفق الله عثمان فنسخ تلك الصحف في المصاحف فبعث الله الى المصار و ثبها في المسلمين: ابن ابی داؤد: كتاب المصاحف الجزء الاول صفحه 23) اللہ تعالیٰ نے حضرت عثمان کو یہ توفیق دی کہ حضرت ابوبکر کے جمع کیے ہوئے مصاحف کی نقول کروا کر بلاد اسلامیہ میں پھیلادیں اور مسلمانوں میں رائج کردیں۔حضرت الحاج حکیم مولانا نورالدین صاحب خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اس بارہ میں فرماتے ہیں:۔لوگ حضرت عثمان کو جامع القرآن بتاتے ہیں۔یہ بات غلط ہے۔صرف عثمان کے لفظ کے ساتھ قافیہ ملایا ہے۔ہاں شائع کنندہ قرآن اگر کہیں تو کسی حد تک بجا ہے۔آپ کی خلافت کے زمانہ میں اسلام دُور دُور تک پھیل گیا تھا۔اس لیے آپ نے چند نسخه نقل کرا کر مکہ، مدینہ، شام ، بصرہ، کوفہ اور بلاد میں بھجوا دیئے تھے اور جمع تو اللہ تعالیٰ کی پسند کی ہوئی ترتیب کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہی فرمایا تھا اور اسی پسندیدہ ترتیب کے مطابق ہم تک پہنچایا