اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 5
5 اتفاق نہیں بلکہ اس کی ظاہری حفاظت کے لیے خدا تعالیٰ نے دو بنیادی انتظامات فرمائے جن کا ذکر اس سورت کے شروع ہی میں کیا گیا ہے۔ابتدائے نزول ہی سے اس کی آیات لکھی جانے لگیں اور اس کی حفاظت کا سامان کیا گیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ میں اسے ایسے عشاق عطا کیے جو اس کے ایک ایک لفظ کو حفظ کرتے اور رات دن خود پڑھتے اور دوسروں کو سناتے ہیں۔اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے کسی نہ کسی حصے کا نمازوں میں پڑھنا فرض مقرر کر دیا اور شرط لگادی کہ کتاب میں سے دیکھ کر نہیں بلکہ حفظ کر کے پڑھا جائے۔ایسے آدمیوں کا مہیا کرنا جو اسے حفظ کرتے اور نمازوں میں پڑھتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت اور آپ کے اختیار سے باہر تھا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ کہ ایسے لوگ ہم پیدا کرتے رہیں گے جو اسے حفظ کریں گے۔آج اس اعلان پر پندرہ سو سال ہو چکے ہیں اور قرآن مجید کے کروڑوں حافظ گزر چکے ہیں اور آج بھی بے شمار حافظ ملتے ہیں جنہیں اچھی طرح سے قرآن کریم یاد ہے۔ایک ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کے لیے یہ مقرر فرمایا کہ ایسے سامان کر دیے کہ قرآن مجید اپنے نزول کے معا بعد تمام دنیا میں پھیل گیا اور یوں اس میں تغیر و تبدل کا امکان ہی نہیں رہا۔ایک ذریعہ قرآن مجید کی حفاظت کا یہ تھا کہ اسلامی علوم کی بنیاد قرآن مجید پر قائم ہوئی جس سے اس کی ہر حرکت وسکون محفوظ ہو گئے۔مثلاً نحو پیدا ہوئی تو قرآن مجید کی خدمت کے لئے۔پھر مسلمانوں نے علم تاریخ ایجاد کیا تو قرآن مجید کی خدمت کی غرض سے کیونکہ قرآن مجید میں مختلف اقوام کے بیان شدہ حالات آئے تھے اُن کی تحقیق کے ساتھ ساتھ باقی دنیا کے حالات بھی جمع کر دیے۔پھر علم حدیث شروع ہوا تو قرآن مجید کی خدمت کے لیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے کیا معنے بیان فرمائے ہیں۔پھر اہل فلسفہ کے قرآن مجید پر اعتراضات کے دفعیہ کے لیے مسلمانوں نے علوم فلسفہ کی تجدید کی اور علم منطق کے لیے نئی اور زیادہ حق راہ نکالی۔پھر مسلمانوں میں طب کی بنیاد بھی قرآن مجید کے توجہ دلانے پر ہی قائم ہوئی۔اسی طرح نحو میں مثالیں دیتے تو قرآن مجید کی آیات کی اور ادب میں بھی بہترین مجموعہ قرآن مجید کی آیات کو قرار دیا گیا۔غرض ہر علم میں آیات قرآنی کو بطور حوالہ نقل کیا جاتا۔مسلمانوں میں قرآن کریم کے خدمت کے لیے دیگر علوم کی طرف رجوع کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہوا کہ پہلی کتابوں سے تو دنیوی علما کا طبقہ سخت بے زار تھا لیکن مسلمانوں میں سے ان علوم کے ماہر ہمیشہ قرآن مجید کے خادم رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم سچے علوم کا دشمن نہیں بلکہ مؤید ہے۔مشہور مستشرق قلب کے حتی اس بارہ میں رقم طراز ہیں: قرآن صرف ایک مذہب کا دل اور آسمانی بادشاہت کا رستہ دکھانے والا نہیں بلکہ وہ علوم و