اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 182
الذكر المحفوظ 182 عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (يونس: 16) ترجمہ: وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں اس کی بجائے کوئی اور قرآن لے آیا اسے ہی تبدیل کر دے۔تو کہہ دے کہ مجھے اختیار نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔میں نہیں پیروی کرتا مگر اسی کی جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے۔اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں تو یا ایک عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ میں قرآن مجید کے متعلق تمام باتیں وحی الہی سے کرتا ہوں اور اس میں خود کوئی دخل نہیں دیتا۔لہذا میں کوئی تبدیلی یا تغیر نہیں کر سکتا۔اس آیت سے ان لوگوں کا بھی رڈ ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم کا ہر سورۃ سے پہلے لکھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حکم سے ہے نہ کہ وحی سے۔یا ترتیب قرآن اور سورتوں کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود رکھے ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی طرف سے فرماتا ہے کہ قرآن مجید سے متعلق میں ہر بات کو وحی سے ہی طے کرتا ہوں اور یہ کہنا کہ بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو وحی الہی سے ایسا کرتے تھے مگر صحابہ نے اپنی مرضی سے بعض تغیرات کر دیے۔بالکل ہی خلاف عقل ہے۔کیونکہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق نہیں تھا تو صحابہ کو کیسے یہ حق حاصل ہوسکتا تھا اور وہ سوائے اس کے کہ نعوذ باللہ انہیں مرتد قرار دیا جائے کب ایسا کر سکتے تھے؟ ( تفسیر کبیر جلد 3 صفحہ 45) حضرت امام رازگی اس آیت کی تفسیر کے تحت یہ بیان فرماتے ہیں: سورۃ یونس کی اس آیت کے تحت کئی مفسرین نے بھی یہ بات لکھی ہے کہ قرآن مجید کی ترتیب خود خدا تعالیٰ نے قائم تھی اور اپنے رسول کو اس بات کا کوئی اختیار نہیں دیا تھا کہ اپنی مرضی سے ترتیب قرآن میں کوئی تصرف کرتے۔( تفسیر کبیر رازی جزو 17 صفحہ 55 56 ناشر دارالکتب العلمیہ تہران طبع دوم ) تفسیر القرطبی میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے۔یہ آیت اس بارہ میں ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ قرآن کو کسی اور ترتیب سے پیش کریں مگر آپ کو اس کا اختیار نہ تھا۔اور یہ بات بھی مد نظر رہے کہ جو کچھ بھی آپ فرماتے تھے جب کہ وہ وحی پر مبنی تھا تو وہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوانہ