اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 181 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 181

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 181 بھی قرآن مدون کیا ہے“ کے الفاظ سے یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کر رہا ہے کہ موجودہ ترتیب کے بارہ میں بھی شک ہے کہ کس نے لگائی۔چنانچہ جب معلوم ہی نہیں کہ کس نے قرآن مدون کیا نیز جب اصل ترتیب ہی بدل دی گئی تو کس طرح قرآن کریم کو محفوظ کلام الہی مانا جائے؟ ذیل کی سطور میں ہم یہ اس حقیقت کے ثبوت پیش کریں گے کہ سورتوں کی ترتیب بھی خدا تعالیٰ کی مقرر شدہ ہے اور رسول کریم نے الہی راہنمائی میں اپنی نگرانی میں لگوائی تھی۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سورتوں کو نزول کے ساتھ ہی ایک خاص ترتیب سے لکھواتے اور حفظ کروا دیتے تھے اور قرآن کریم آج بھی بعینہ اُسی ترتیب کے کروادیتے ساتھ محفوظ ہے جیسا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں تھا۔اس حقیقت کے ثبوت میں قرآن کریم کی اندرونی گواہی بھی موجود ہے کہ سورتوں کی ترتیب خدا کی مقرر کردہ ہے اور بہت سے تاریخی دلائل بھی موجود ہیں۔چنانچہ ذیل میں دونوں قسم کے ثبوت درج کیے جاتے ہیں :۔سورتوں کی ترتیب پر قرآن کریم کی اندرونی گواہی سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ خود قرآن کریم میں یہ دعویٰ فرماتا ہے کہ قرآن کریم کی جمع اور اشاعت کے تمام تر مراحل خدا تعالیٰ کے ذمہ ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے : رَتَّلُنهُ تَرْتِيلاً۔(الفرقان : 33 ) یعنی ہم نے اس قرآن کی ترتیب بھی نہایت اعلیٰ درجہ کی رکھی ہے۔تمام عربی لغات ترتیل کے معنوں میں تالیف یعنی ترتیب سے جمع کرنے کے معنے بھی بیان کرتی ہیں۔لسان العرب میں ہے رتل الکلام: احسن تالیفہ یعنی کلام کی تالیف کو بہترین بنایا۔پھر فرمایا: إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ قُرْآنَهُ (القيامة : 18) یعنی اس قرآن کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہماری ذمہ داری ہے۔پس کیسے ممکن ہے کہ اتنے واضح ارشادات کی موجودگی میں یہ کہ دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ تو ایک اور ترتیب سے سے قرآن کریم نازل فرماتا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی مرضی سے سورتوں کی ترتیب بدل دیتے تھے اور اُس ترتیب سے نہیں رکھتے تھے جس میں وہ نازل ہو رہی تھیں جبکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جمع قرآن اللہ کی مرضی سے ہوتا تھا پس جو بھی ترتیب اللہ تعالیٰ لگاتا تھا یہ محال تھا آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اسے بدلتے۔اللہ تعالیٰ اس وسوسہ کو ر ڈ کرتے ہوئے ایک دوسری جگہ فرماتا ہے: قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا اثْتِ بِقُرْآن غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلُهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِلَهُ مِنْ تِلْقَايُّ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ