اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 179
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 179 ترتیب صحابہ کی لگائی ہوئی ہے اور یہ کہ دائی ترتیب میں جمع کرتے ہوئے ترتیب نزولی کا خیال نہیں رکھا گیا۔ابن وراق نے اس معاملہ میں بھی ہرزہ سرائی کی ہے۔کہتا ہے: The Koran is written in Arabic and divided into chapters (suras or surah) and verses (ayah; plural, ayat)۔There are said to be approximately 80,000 words, and between 6,200 and 6,240 verses, and 114 suras in the Koran۔Each sura, except the ninth and the Fatihah (the first sura) begins with the words "In the name of the Merciful, the Compassionate۔" Whoever was responsible for the compilation of the Koran put the longer suras first, regardless of their chronology, that is to say, regardless of the order in which they were putatively revealed to Muhammad۔(Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim, Prometheus Books, New York, 1995, under heading; The Koran: Pg (105) یعنی قرآن عربی زبان میں لکھا ہوا ہے اور مختلف سورتوں اور آیات میں تقسیم کیا گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ تقریباً 80000 الفاظ ، 6200 سے 6240 تک آیات ہیں۔نویں سورت اور الفاتحہ کے علاوہ جو کہ پہلی سورت ہے، تمام سورتیں ان الفاظ سے شروع ہوتی ہیں، بسم اللہ الرحمن الرحیم جس نے بھی قرآن مدون کیا ہے اس نے زیادہ لمبی سورتیں شروع میں رکھی ہیں بلاتر تیپ نزول یعنی اس ترتیب کا خیال نہیں رکھا گیا جس میں کہ سمجھا جاتا ہے کہ قرآن محمد (ﷺ ) پر نازل کیا گیا۔یہ کہنا کہ " 6200 سے 6240 تک آیات ہیں۔اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گویا آیات میں کسی قسم کی کمی بیشی کا شبہ ہے یعنی کچھ نسخوں میں کچھ آیات کم ہیں اور کچھ میں کچھ آیات زیادہ ہیں۔جیسا کہ ابن وراق نے اعتراض بھی کیا ہے۔دراصل ایسا بالکل نہیں ہے۔آیات کے شمار میں اکاڈ کا فرق محض اس لیے ہے کہ بعض علما کے نزدیک ایک جگہ آیت ختم ہوتی ہے اور بعض اگلی آیت کو بھی گزشتہ آیت کا ہی حصہ سمجھتے ہیں اس طرح شمار کا اختلاف پیدا ہو جاتا ہے مگر اس سے یہ مراد نہیں کہ الفاظ یا حروف کم یا زیادہ ہیں۔اگر بنظر غور دیکھا جائے تو یہ فرق بھی معنوی وسعت کا باعث ہے۔پھر آیات کے شمار کے فرق کی ایک وجہ یہ ہے کہ بعض علما بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کو ہر سورت کی پہلی آیت شمار نہیں کرتے اس لیے ان کے شمار میں ہر سورت کی ایک آیت اُن لوگوں کے شمار سے کم ہوتی ہے جو بسم اللہ کو ہر سورت کی پہلی آیت شمار کرتے ہیں اور اس طرح سارے قرآن کریم میں 113 تک آیات کے شمار کا فرق پیدا ہو جاتا ہے مگر یہ صرف آیات کے نمبروں کے اندراج اور شمار کا اختلاف ہے۔عالم اسلام میں شائع ہونے والے قرآن کریم کے تمام نسخہ جات میں بہر حال ہر سورت سے قبل بسم الله الرَّحْمنِ الرَّحِيم درج کی جاتی ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی۔خواہ اسے سورت کی پہلی