اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 175
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 175 کو محفوظ ماننے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جب کوئی وحی الہی ایک بارڈ نیا کے سامنے پیش کر دیتے تھے تو پھر اُس میں کوئی رد و بدل محال ہو جاتا تھا۔اس کی وجوہات جمع القرآن کی تاریخ کی بحث میں گزر چکی ہیں۔ذیل میں ہم مختصر طور پر نمبر وار درج کر دیتے ہیں کہ کیوں رد و بدل محال تھا۔1- قرآن کریم کے نزول کے ساتھ ہی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اسے تحریری شکل میں محفوظ کر وا دیتے اور پھر ان مستند تحریرات سے صحابہ کثرت سے اپنے لیے نقول تیار کر لیتے۔پس کسی بھی تبدیلی کی صورت میں اتنے نسخوں میں تبدیلی کروانی ہوتی جو کہ ناممکن بھی تھی اور تاریخ میں ایک بھی ایساذ کر نہیں ملتا کہ کبھی آپ نے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی ہو۔2- تحریر کے ساتھ ہی آپ چنیدہ صحابہ کو وحی الہی حفظ کروا دیتے اور ان کے حفظ کی درستگی کا یقین کر لینے کے بعد ان کا فرض ہوتا کہ وہ کثرت سے دیگر صحابہ کو حفظ کروا دیں۔اس طرح نزول کے معا بعد حفظ کے ذریعے کلام الہی بہت سے سینوں میں محفوظ ہو چکا ہوتا۔3۔پھر صرف حفاظ ہی حفاظت قرآن کے محافظ نہیں تھے بلکہ نماز میں بھی تلاوت قرآن فرض تھی اس لیے ہر مسلمان کو کچھ نہ کچھ حصہ یاد کرنا ہوتا تھا جو نماز میں لوگوں کے سامنے تلاوت کیا جاتا۔پھر ہر رمضان میں اس کی دہرائی ہوتی۔4۔پھر جن لوگوں کے سپرد یہ امانت ہوئی تھی یعنی آنحضور کے صحابہ، اُنکا نمونہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ وہ ایمان کے کس اعلیٰ مقام پر فائز تھے کہ مطالعہ کرنے والے کو یقین ہو جاتا ہے کہ وہ لازماً قرآن کریم کو الہی کلام سمجھتے تھے اور اس بات پر یقین ہو جاتا ہے کہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان لوگوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا ہو جو قرآن کریم کے معاملہ میں ذرہ سی بھی بددیانتی کی ادنی سی بھی کوشش پر خاموشی اختیار کرسکتا ہو اور نہ ہی تاریخ میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے۔بلکہ جہاں ادنی سی بھی غلط فہمی پیدا ہوئی تو بپھرے ہوئے شیروں کی طرح کھڑے ہو گئے۔جب انفرادی طور پر یہ حالت ہے تو کیسے یہ ممکن ہے کہ کوئی بد دیانتی ہوئی ہو اور اس پر ساری قوم نے خاموشی اختیار کی ہو؟ یہ تو قومی بددیانتی بن جاتی ہے اور کسی بھی قوم کا اس طرح خاموشی سے کسی قومی بددیانتی پر متفق ہو جانا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو، ہرگز ممکن نہیں۔تاریخ ایسی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ایسی بددیانتی کی مرتکب تو وہ قوم اس وقت بھی نہ ہوسکی جب کہ اخلاقی، ذہنی، روحانی اور دنیاوی لحاظ سے انتہائی درجہ کی پستی میں گری ہوئی تھی ، جب پہلے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی سچائی پر اس قوم سے قو می گواہی طلب کی ، تو اب کیونکر ممکن تھا کہ اخلاقی ، روحانی اور دنیاوی آداب کے نئے اور اعلیٰ پیمانے قائم کرنے والی قوم اس قومی بددیانتی کی مرتکب ہو جاتی؟ صحابہ کی وفاداری اور جانثاری کا اندازہ ان کے حالات سے ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے پیغام الہی کی