اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 3
3 بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ سورۃ الحجر میں یہ مضمون بیان فرماتا ہے کہ قرآن کریم ایک ایسا نادر اور بے مثل کلام ہے کہ ایسے بہت سے مواقع پیش آتے ہیں اور آتے رہیں گے کہ اس کی خوبیاں دیکھ کر کفار کے دل پر بھی رعب طاری ہو جاتا ہے۔وہ بھی دل ہی دل میں کبھی حسرت کرتے ہیں کہ کاش ہم تسلیم کرنے والوں میں سے ہو جاتے۔لیکن اس کے بعد پھر اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور اپنے تکبر نخوت اور انانیت کی وجہ سے اس پر ایمان نہیں لاتے اور اپنی بدبختی کی وجہ سے صداقت کو پہچاننے کے باوجود قبول کرنے سے محروم رہتے ہیں۔پھر مخالفت برائے مخالفت میں ایسے اندھے ہو جاتے ہیں کہ جانتے بوجھتے ہوئے تمسخر کرتے اور خدا سے ٹکر لے بیٹھتے ہیں۔ایسے لوگ سمجھتے نہیں جب ہم نے ایک کلام اتارا ہے تو یہ تو نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنا مقصد حاصل کیے بغیر ہی مٹ جائے۔وہ قائم رہے گا اور رکھا جائے گا اور اسے قبول نہ کرنے والے خود اپنا ہی نقصان کریں گے۔فرمایا کہ اس کلام کی مخاطب ساری دُنیا ہے پس اگر ساری دُنیا نے اسے نہ مانا اور ظلم و تعدی اور شرارت کی راہ سے مخالفت میں حد سے بڑھ گئی تو ساری دُنیا تباہی کا شکار ہوگی۔یہ سورت چار نبوی یا اس سے بھی پہلے نازل ہوئی جبکہ مسلمانوں کی ظاہری حالت بہت کمزور تھی۔گنتی کے مسلمان تھے اور وہ بھی زیادہ تر غر با۔ایسے میں ٹکر لینے پر ساری دُنیا کو تباہ و برباد کر دیے جانے کے اندار اور تنبیہ پر کفار حیرت کا اظہار کرتے اور مسلمانوں کو تمسخر اور تضحیک کا نشانہ بناتے کہ تمہاری حالت تو ایسی ہے کہ ہم اس چھوٹی سی بستی میں رہنے والے ہی جب چاہیں تمہیں مسل ڈالیں اور تم دُنیا پر فتح یاب ہونے کی بات کر رہے ہو۔چنانچہ ایک طرف مسلمانوں سے استہزاء کرتے اور دوسری طرف بانی اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارہ میں کہتے کہ یہ تو ایک دیوانہ ہے (نعوذ باللہ )۔قرآن کریم ان کا یہ تمسخر ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: وَقَالُوْايَأَيُّهَا الَّذِى نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِكرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ (الحجر: 7) اور انہوں نے کہا کہ اے وہ شخص جس پر یہ ذکرا تارا گیا ہے یقینا تو دیوانہ ہے پہلے انبیاء سے بھی تمسخر ہوالیکن انبیاء سے تمسخر کرنے والے ہمیشہ نا کام ہوئے اور انبیاء ہمیشہ کامیاب ہوئے اسی طرح اب بھی ہوگا۔خدا تعالیٰ اپنے سلسلہ کو کامیاب کرے گا۔لوگ یہ نہیں خیال کرتے کہ خدا تعالیٰ پر افترا کرنا ایسی بات نہیں کہ اس سے صرف نظر کیا جائے۔خدا خود اس امر کی حفاظت کرتا ہے کہ اس پر افترانہ کیا جائے اور بچے کلام کو خاص امتیاز عطافرماتا ہے۔اس کی قبولیت کے سامان پیدا کر دیتا ہے اور جو اسے قبول کرتے ہیں انہیں ادنیٰ حالت سے اٹھا کر کمال تک پہنچا دیتا ہے۔پس اب بھی یہی مقدر ہے اگر مخالف پروا نہیں کرتے تو نہ کریں۔تو اس خزانہ کو