اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 164
الذكر المحفوظ 164 کی راہ میں جان قربان کرنے کی تمنا کا اس شدت اظہار اور پھر عملی نمونہ سے اس تمنا کو سچا کر دکھانا اور اپنے نبی پر اس شان کے ایمان کا نمونہ ملتا ہے۔ایمان تو کجا، بائبل کے مطابق تو موسی کی قوم نے چالیس سال صحرا میں دھکے کھانا قبول کر لیا مگر موسی کی معیت میں خدا کی راہ میں آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔یسوع کے خاص حواریوں میں سے ایک حواری نے چند روپوں کے عوض جنت کی کنجیوں کی کوٹھکرادیا اور یسوع مسیح کی مخبری کر کے انہیں گرفتار کرا دیا۔پس کیسے ممکن تھا کہ جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے صحابہ اسی خلق عظیم کی کتابی صورت میں کوئی ادنی سا بھی بگاڑ یار ڈو بدل برداشت کر لیتے ؟ بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ حفاظت قرآن کے بارہ میں ادنی ادنی سی غلط فہمی پر وہ بھرے ہوئے شیروں کی طرح اُٹھ کھڑے ہوتے۔کیا ابن وراق نے وہ واقعہ نہیں پڑھا کہ جب حضرت عمر اسلام سے قبل غصہ کی حالت میں اپنی بہن کو مار رہے تھے۔بہن کا لہو دیکھ کر جب آپے میں آئے تو قرآن کے وہ اوراق مانگے جو وہ پڑھ رہی تھیں۔کس طرح وہ مظلوم عورت صاف انکار کر دیتی ہے کہ تم اس حالت میں قرآن کو چھو بھی نہیں سکتے۔اس تکلیف دہ چوٹ کے بعد بھی کہ جب لہو بہہ رہا تھا قرآن کی تکریم کس درجہ عزیز تھی۔کس طرح ممکن ہے اس درجہ ایمان پر فائز جاشار تحریف قرآن کی کسی بھی کوشش پر خاموشی اختیار کرتے۔پھر وہ واقعہ بھی ابن وراق کے علم میں ہوگا کہ حضرت عمرؓ کے سامنے ایک صحابی ہشام بن حکیم بن حزام نے قرآن کی چند آیات اس انداز میں پڑھیں جو حضرت عمر کے نزدیک درست نہیں تھا۔اس پر آپ ان کو چادر سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔اس وقت رسول کریم نے فرمایا کہ عمر سے جانے دو یہ درست پڑھ رہا ہے۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب انزل القرآن على سبعة احرف) اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود ایک آیت کو اور انداز میں سُن کر پڑھنے والے کو لے کر فوراً رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے وہی فیصلہ فرمایا جو حضرت عمرؓ کے معاملہ میں فرمایا تھا(بخاری کتاب فضائل القرآن باب اقرئوا القرآن ما ائتلف قلوبکم)۔صحابہ نے تو قدم قدم پر جانثاری اور اعلیٰ ایمان کے نظارے دکھائے : حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ امیہ بن خلف کے ایک حبشی غلام جب ایمان لائے تو امیہ ان کو دو پہر کے وقت جبکہ آسمان سے آگ برس رہی ہوتی اور مکہ کا پتھر یلا میدان بھٹی کی طرح تپ رہا ہوتا ، باہر لے جاتا اور نگا کر کے زمین پر لٹا دیتا۔بڑے بڑے گرم پتھر ان کے سینے پر رکھ کر کہتا کہ لات اور عزملی کی پرستش کر اور محمد سے علیحدہ ہو جاور نہ اسی طرح عذاب دے کر مار دوں گا۔حضرت بلال زیادہ عربی نہ جانتے تھے۔صرف اتنا کہتے احد احد یعنی اللہ ایک ہی ہے۔اللہ ایک ہی ہے۔یہ جواب سن کر امیہ اور بھڑک اٹھتا اور ان کے گلے میں رستہ ڈال کر