اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 154 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 154

الذكر المحفوظ 154 آکر سرداران عرب کا یہ مطالبہ کرنا اسلامی تاریخ کے کس طالب علم سے پوشیدہ ہے کہ اپنے بھتیجے سے کہو کہ صرف ہمارے بتوں کو بُرا بھلا کہنا چھوڑ دے۔پس باوجود بار بار اصرار کے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے کہ جو کچھ بھی نازل ہوتا ہے میں اسے بعینہ بیان کرنے کا پابند ہوں کیوں کہ یہ خدا کا کلام ہے۔میں اس میں کوئی کمی بیشی کر سکتا ہوں اور نہ ہی اسے بدل سکتا ہوں۔(سیرۃ ابن ہشام باب مباداۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم قومہ و ما کان منہم ) اور نہ ہی یہ ممکن تھا کہ خدا اسے بدل دے کیوں کہ کسی کا خوف یا نا پسندیگی اسے اپنا کلام بدلنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔پھر خدا تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرما دیا تھا وہ حتمی تھا اور خدا کی شان کے خلاف ہے کہ وہ بار بار اپنا کلام بدلتا پھرے کیوں کہ وہ علیم اور خبیر ہے۔وہ جو بات بھی پہلی بار کرے گا وہ لازماً درست ہوگی اور کم عقل انسان کی طرح اسے اپنے کلام کی نظر ثانی کی ضرورت نہیں۔ذرا شعب ابی طالب کی تکالیف ، اہل طائف کا ظلم، جانثاروں کی اندوہناک تکالیف کو ذہن میں دہرائیے اور پھر فتح مکہ کے دوران بلند کیے جانے والے نعرہ لاَ تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ “ (یوسف:93) پر غور کیجیے۔کیا یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ آپ اور آپ کے صحابہ ان تمام مظالم کا انتقام خدا کے حوالے کرتے اور تمام فتوحات کو خدا تعالیٰ ہی کی طرف پھیرتے تھے؟ کیا تاریخ اس بات کا روشن ثبوت نہیں کہ ان فتوحات سے ذاتی انتقام یا ذاتی منفعت حاصل کرنا کبھی بھی مد نظر نہیں رہا تھا؟ کیا یہ یقین نہیں ہوتا کہ آپ کا یہ تمام مظالم سہنا کسی اعلیٰ مقصد کے لیے تھا؟ ورنہ دنیاوی جنگی دستور کے مطابق ضرور انتقام لیتے اور وہی سلوک مخالفین سے روار کھتے جومخالفین نے آپ سے اور آپ کے جانثاروں سے روا رکھا۔اہالیان طائف کا ظلم کون کھلا سکتا ہے؟ صحیح بخاری میں اس واقعہ کا ذکر کچھ یوں ملتا ہے: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نبی کی حکایت فرماتے ہوئے دیکھا۔جس کو اس کی قوم نے لہولہان کر دیا تھا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے تھے اور دُعا کرتے جاتے تھے کہ اے خدا! میری قوم کو بخش دے۔وہ نادان ہے۔(بخاری استابة المرتدين باب اذا عرض الذي۔۔۔۔۔۔۔۔۔) پھر ذرا ہجرت کے واقعہ پر نظر ڈالیے۔جب دشمن تعاقب کرتا ہوا اس غار کے بالکل دہانے پر آکھڑا ہوا جس میں آپ اپنے یار غار ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے۔وہ اتنا قریب تھے کہ ان کی باتوں کی آواز میں تک سنائی دے رہی تھیں۔وہ کہہ رہے تھے کہ یا تو اس غار میں ہیں یا پھر آسمان پر چلے گئے ہیں۔ان حالات میں جبکہ دشمن آپ کے ٹھکانے پر پہنچ گیا اور حضرت ابو بکر آپ کی حفاظت کے خیال سے گھبرائے تب بھی آپ نے انہیں تسلی دی کہ لَا تَحْزَنُ إِنَّ اللهَ مَعَنَا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ پر کامل تو کل کا عظیم الشان اسوہ دکھایا جو آپ کی صداقت پر ایک بہت عظیم الشان گواہ ہے کہ آپ سر سے پاؤں تک اس یقین میں گندھے ہوئے تھے کہ آپ خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اور خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ یقیناً سچا ہے کہ وہ آپ کو بحفاظت مکہ سے نکال