اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 152 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 152

الذكر المحفوظ 152 اور آپ اپنی بعثت کے مقصد کو کبھی نہ بھولے۔پس آپ کی ساری زندگی گواہ ہے کہ ان فتوحات کے بعد بھی آپ کے اخلاق و کردار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ پہلے سے زیادہ اعلیٰ شان کے ساتھ دُنیا کے سامنے جلوہ گر ہوئے۔پھر ایک اور پہلو سے دیکھیے کہ وہ انسان، جس نے اتنی تکالیف اُٹھانے اور اپنی زندگی کو داؤ پر لگانے کے باوجود قرآن کریم میں کوئی ردو بدل قبول نہ کیا۔وہ جب فاتحانہ شان سے زندگی گزارتا ہے تو کیا اب اس خدائی امانت میں خیانت کا مرتکب ہوسکتا ہے، جبکہ خوف اور کمزوری کی حالت بھی پہلے سی نہیں رہی تھی ؟ غور کیا جائے تو فتح کے بعد تو کوئی بھی وجہ نظر نہیں آتی کہ کلام الہی میں کوئی تحریف کر دی جائے۔جس پیغام کے لیے اتنی مشکلات برداشت کیں اور اپنی جان پر کھیل کر اس کی حفاظت کی اور اپنے پیاروں کو مہیب خطروں میں ڈالا اور انکی جانیں تک اس امانت کی حفاظت کی راہ میں قربانی کے لیے پیش کر دیں، جس کے لیے دُنیا کی جاہ و حشمت اور دولت و ثروت کی قربانی دی، کیسے ممکن تھا کہ اس کے معاملہ میں کسی خیانت کے مرتکب ہو جاتے یا بعد میں کبھی ردو بدل کر دیتے؟ وہ تپتی دھوپ میں بھاری پتھروں کے بوجھوں تلے دبے ہوئے نڈھال جانثار، پیاس اور گرمی سے مونہوں سے باہر شکتی زبانیں ، وہ کوئلوں پر زندہ جلتے ،تڑپتے پیارے، وہ شہداء کے چرے ہوئے بدن، وہ انتہائی درندگی سے شہید کی گئی پردہ دار مقدس خواتین کے لاشے، یہ سب تو رد و بدل اور تحریف نہ کرا سکے۔پھر اب فاتحانہ زندگی میں کون سی قیامت ٹوٹی تھی جو تحریف کا موجب ہو جاتی ؟ معمولی سی سمجھ بوجھ والا انسان بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ مصائب اور مشکلات کے دور کے بعد کسی سے مرعوب ہوئے بغیر قرآن کریم کی محافظت میں مد غلبہ حاصل ہو جانے کے بعد بلاوجہ مفتوح قوم کو خوش کرنے کی خاطر کلام الہی میں تحریف کیونکر کر سکتا ہے؟ یہ تو ادنی سی عقل کے حامل انسان سے بھی بعید ہے کجا یہ کہ اسے محمد ﷺ کی طرف منسوب کیا جائے۔پس فتح کے بعد کے دور میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت اور حالات کا مطالعہ آپ کے بارہ میں تمام تر شکوک کو جڑھ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔مندرجہ بالا بحث کا خلاصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زندگی بخش الفاظ میں درج ہے۔آپ فرماتے ہیں: اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح کو دو حصوں پر منقسم کر دیا۔ایک حصہ دکھوں اور مصیبتوں اور تکلیفوں کا اور دوسرا حصہ فتحیابی کا۔تا مصیبتوں کے وقت میں وہ خلق ظاہر ہوں جو مصیبتوں کے وقت ظاہر ہوا کرتے ہیں اور فتح اور اقتدار کے وقت میں وہ خلق ثابت ہوں جو بغیر اقتدار کے ثابت نہیں ہوتے۔سو ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں قسم کے اخلاق دونوں زمانوں اور دونوں حالتوں کے وارد ہونے سے کمال وضاحت سے ثابت ہو گئے۔چنانچہ وہ مصیبتوں کا زمانہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تیرہ برس تک مکہ معظمہ میں شامل حال رہا۔اس زمانہ کی سوانح پڑھنے سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ