اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 151
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 151 اسلامی تاریخ ان مثالوں سے بھری پڑی ہے۔وہ نظارہ بھی تو یاد کریں جب غزوہ حنین کے بعد مال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر نو مبایعین ( نئی نئی بیعت کر کے مشرف باسلام ہونے والوں ) میں سے کسی نے عدم تربیت کی وجہ سے آپ کے ذاتی استعمال کی چادر بھی آپ کے بدن سے اُتار لی تھی۔معلوم انسانی تاریخ میں کسی دُنیاوی بادشاہ کا یہ نمونہ نظر نہیں آتا۔اسی حقیقت کا اعتراف Washington Irving ان الفاظ میں کرتا ہے: "His military triumphs awakened no pride nor vain glory, as they would have done had they been effected for selfish purposes۔In the time of his greatest power he maintained the same simplicity of manners and appearance as in the days of his adversity۔So far from affecting a regal state, he was displeased if, on entering a room, any unusual testimonials of respect were shown to him۔If he aimed at universal dominion, it was the dominion of the faith; as to the temporal rule which grew up in his hands, as he used it without ostentation, so he took no step to perpetuate it in his family۔(Washington Irving: Mahomet and his Successors, Printers: George Bell & Son Londons, York St۔, Covet Garden, 1909,pg۔199) یعنی آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) کی جنگی فتوحات نے نہ تو آپ میں کسی قسم کا تکبر پیدا کیا اور نہ ہی نخوت جو کہ ذاتی غرض کے حصول کی خاطر حاصل کی گئی فتح سے پیدا ہوا کرتی ہے۔اپنی طاقت کے عروج پر بھی آپ نے اپنے اطوار میں اور ملنے جلنے میں وہی سادگی اور متانت برقرار رکھی تھی جو کہ مصائب کے دور میں آپ کی شان تھی۔شان وشوکت تو گجا ، آپ کے کمرے میں داخل ہونے پر اگر کوئی خاص طور سے استقبال کرتا تو آپ اسے بھی ناپسند فرماتے۔پس اگر کوئی عالمی سلطنت آپ کے مد نظر تھی تو وہ محض عالم روحانی کی سلطنت تھی کیونکہ جو دنیاوی سلطنت آپ کے ہاتھوں میں تھی اسے آپ نے کبھی بھی ظاہری شان و شوکت کے لیے استعمال نہیں کیا اور نہ اسے اپنے خاندان میں جاری رکھنے کے لیے کوئی اقدامات کیے۔کیا اس درجہ کا امانت دار انسان جو دشمنوں سے حالت جنگ میں بھی اخلاقیات کے انتہائی اعلیٰ نمونے دکھاتا ہے، جو کسی قسم کی ذاتی یا دنیاوی منفعت کو اپنی بعثت کے مقصد کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیتا۔جو کمزوری اور کسمپرسی کے ایام میں بھی کبھی اپنے مقصد سے غافل نہ ہوا اور اس کی فتوحات کے بعد کی زندگی بھی ایک عملی ثبوت ہے کہ اس نے ان فتوحات سے کوئی ذاتی فائدہ نہ اٹھایا ، جو یہ دکھاتی ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف پیغام الہی کی اشاعت تھی۔صاف دکھائی دیتا ہے کہ کوئی حالات کی نرمی یا تنگی آپ کی توجہ اس مقصد سے پھیر نہ سکی