اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 150
الذكر المحفوظ 150 کسی قسم کی دنیاوی یا ذاتی منفعت حاصل کرنے کا خیال بھی دل میں نہ لائے۔فتح خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عظمت اخلاق کا حسین، روشن اور بلند تر مینار نظر آتا ہے۔اس واقعہ سے جہاں فاتحین عالم کے برخلاف محمد مصطفیٰ " کے خلق کی وہ عظیم الشان فتح نظر آتی ہے جو مفتوح قوم کے ساتھ حسن سلوک عفو، رحم اور احسان سے عبارت ہے۔وہاں آپ کے امین ہونے کا ایک روشن ثبوت بھی ہے اور اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ آپ کے مد نظر کسی قسم کی ذاتی منفعت کبھی نہ تھی۔فتوحات کا مقصد بھی وہی تھا جس مقصد کے لیے آپ نے اندوہناک مظالم سہے تھے۔ہمیشہ اپنی ذات کی نفی کی اور اسے اپنے اعلیٰ مقصد کے حصول کی راہ میں کبھی حائل نہ ہونے دیا۔ہر دو ادوار میں آپ کے مد نظر کوئی بھی دُنیاوی فائدہ نہ رہا۔آپ کی سیرت کا بغور مطالعہ کرنے والے مخالفین بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں اور کھلم کھلا بیان کرتے ہیں۔فتح مکہ کا واقعہ کیا ہی عظیم الشان شہادت ہے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت پر اور اس بات پر کہ آپ کا مقصد کوئی ذاتی یاد نیاوی نوعیت کا نہیں تھا اور اب بھی وہی مقصد تھا جو آپ اب سے 22 برس پہلے بیان فرماتے تھے یعنی خدا کا پیغام لوگوں تک پہنچانا۔چنانچہ جب مکہ فتح ہوا اور آپ کی جان کے دشمن بے بس ہو کر اور کٹی ہوئی خشک ٹہنیوں کی طرح آپ کے قدموں میں ڈھیر ہو گئے تو آپ اب مکمل طور پر صاحب اختیار تھے کہ اپنے اور اپنے جانثاروں پر ڈھائے گئے تمام مظالم کا بدلہ لے لیں۔مگر آپ کے عام اعلان معافی نے یہ ثابت کر دیا کہ آپ اپنے اور اپنے ساتھیوں پر کیے جانے والے مظالم کا انتقام لینے کے لیے نہیں آئے تھے۔آپ کا مقصد تو خدا کے دین کی فتح اور اشاعت تھی اور آج اس مقصد کے حصول کے رستہ میں حائل ایک بڑی روک دور ہو گئی تھی۔یہ فتح تو ایسی فتح تھی کہ آج تک اس کے نقارے اہل سماعت کے کانوں میں گونجتے اور انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور گواہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ان سب فتوحات کا مقصد ذاتی منفعت نہیں تھا بلکہ الہی پیغام کی اشاعت تھا اور آپ کبھی بھی اس پیغام کی حفاظت اور پوری دیانت اور امانت کے ساتھ اس کی اشاعت سے غافل نہیں ہوئے۔Stanley Lane-Poole آپ کے مکہ میں کوٹنے کے مناظر بیان کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کرتا ہے کہ یہ فتح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اور صرف الہی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کی اور کوئی ذاتی منفعت نہ حاصل کی۔سٹینلی لین پول کہتا ہے کہ یہ فتوحات انسانی نہیں ہوسکتیں اور کوئی دُنیاوی شہنشاہ کبھی ایسی فتوحات کا نظارہ نہ دکھا سکا اور نہ آئندہ دکھا سکے گا۔آپ کے کردار اور اخلاق کا ذکر کرنے کے بعد کہتا ہے کہ لازماً آپ خدا کے رسول تھے اور اس بات کا آپ کو دیگر تمام لوگوں سے زیادہ یقین تھا۔(Stanley Lane-Poole: The Speeches and Table-Talk of the Prophet Mohammad, London 1882, Introduction, pp۔46,47)