اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 145
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 145 سے از دست اپنی پہلی جمعیت کو بھی کھو بیٹھے اور ایک بات کہ کر لا کھ تفرقہ خرید لیا اور ہزاروں بلاؤں کو اپنے سر پر بلالیا۔وطن سے نکالے گئے۔قتل کے لیے تعاقب کیے گئے۔گھر اور اسباب تباہ اور برباد ہو گیا۔بار ہاز ہر دی گئی اور جو خیر خواہ تھے وہ بدخواہ بن گئے اور جو دوست تھے وہ دشمنی کرنے لگے اور ایک زمانہ دراز تک وہ تلخیاں اٹھانی پڑیں کہ جن پر ثابت قدمی سے ٹھہرے رہنا کسی فریبی اور مکار کا کام نہیں اور پھر جب مدت مدید کے بعد غلبہ اسلام کا ہوا۔تو ان دولت اور اقبال کے دنوں میں کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا۔کوئی عمارت نہ بنائی۔کوئی بارگاہ طیار نہ ہوئی۔کوئی سامان شاہانہ عیش کا تجویز نہ کیا گیا۔کوئی اور ذاتی نفع نہ اٹھایا۔بلکہ جو کچھ آیا وہ سب قیموں اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبر گیری میں خرچ ہوتا رہا اور کبھی ایک وقت بھی سیر ہو کر نہ کھایا اور پھر صاف گوئی اس قدر کہ توحید کا وعظ کر کے سب قوموں اور سارے فرقوں اور تمام جہان کے لوگوں کو جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے مخالف بنالیا۔یہودیوں سے بھی بات بگاڑ لی۔کیونکہ ان کو طرح طرح کی مخلوق پرستی اور پیر پرستی اور بداعمالیوں سے روکا۔حضرت مسیح کی تکذیب اور توہین سے منع کیا جس سے ان کا نہایت دل جل گیا اور سخت عداوت پر آمادہ ہو گئے اور ہر دم قتل کر دینے کی گھات میں رہنے لگے۔اسی طرح عیسائیوں کو بھی خفا کر دیا گیا۔کیونکہ جیسا کہ ان کا اعتقاد تھا۔حضرت عیسی کو نہ خدا کا بیٹا قرار دیا اور نہ ان کو پھانسی مل کر دوسروں کو بچانے والا تسلیم کیا۔آتش پرست اور ستارہ پرست بھی ناراض ہو گئے۔کیونکہ ان کو بھی ان کے دیوتوں کی پرستش سے ممانعت کی گئی اور مدار نجات کا صرف تو حید ٹھہرائی گئی۔اب جائے انصاف ہے کہ کیا دنیا حاصل کرنے کی یہی تدبیر تھی کہ ہر ایک فرقہ کو ایسی ایسی صاف اور دل آزار باتیں سنائی گئیں کہ جس سے سب نے مخالفت پر کمر باندھ لی اور سب کے دل ٹوٹ گئے اور قبل اس کے کہ اپنی کچھ ذرہ بھی جمعیت بنی ہوتی یا کسی کا حملہ روکنے کے لیے کچھ طاقت بہم پہنچ جاتی سب کی طبیعت کو ایسا اشتعال دے دیا کہ جس سے وہ خون کرنے کے پیاسے ہو گئے ؟ زمانہ سازی کی تدبیر تو یہ تھی کہ جیسا بعضوں کو جھوٹا کہا تھا ویسا ہی بعضوں کو سچا بھی کہا جاتا۔تا اگر بعض مخالف ہوتے تو بعض موافق بھی رہتے۔بلکہ اگر عربوں کو کہا جاتا کہ تمہارے ہی لات و عزمی بچے ہیں تو وہ تو اسی دم قدموں پر گر پڑتے اور جو چاہتے ان سے کراتے۔کیونکہ وہ سب خویش اور اقارب اور حمیت قومی میں بے مثل تھے اور ساری بات مانی منائی تھی صرف تعلیم بت پرستی سے خوش