اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 144 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 144

الذكر المحفوظ 144 غیر منفعت بخش تعلق اور وہ تعلق بھی ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے اور غلام بھی ایسے جو خود پر بھی حق نہیں رکھتے تھے۔ایک طرف اعلیٰ حسب ونسب اور طاقت کا حامل اپنا خاندان ہے، اور دوسری طرف ہر خاندان سے ناصرف قطع تعلقی بلکہ ایک ایسے معاشرہ میں جہاں قبیلہ کے سہارے کے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، تنہا زندگی گزارنے کا المناک خوف۔ایک عام شخص کے لیے جو ان نعمتوں سے پہلے ہی محروم ہو، ان سب نعمتوں کو ٹھکرانا شائد اتنا مشکل نہ ہوتا جتنا آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے تھا۔کیونکہ آپ کو یہ نعمتیں اور شرف حاصل تھا۔آپ معاشرہ میں بہت باعزت اور اعلیٰ اور بلند مرتبہ پر فائز تھے۔اعلیٰ حسب ونسب والے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو صدیوں سے علاقہ کا قائد اور سید تھا۔پس ان سب نعمتوں کو چھوڑنا ایک آنے والی نعمت کا چھوڑ نا نہیں تھا بلکہ اب تک جو کچھ بھی زندگی سے کمایا تھا اس سے محرومی تھی۔اس ظلم اور تعدی، مشکلات اور مصائب کے ہولناک دور میں اس طرح تمام تر عزت و مرتبت ، دولت و شرف، سیادت و قیادت کو ٹھوکر مار دینا اور قرآن کے ایک ایک شعشہ کو سینہ سے چمٹائے رکھنا، کیا یہ سب ثابت نہیں کرتا کہ ہر قیمت چکانے والے یہ لوگ ہرگز کوئی رد و بدل اور تحریف قبول نہیں کریں گے؟ گزشتہ صفحات میں کی گئی اس بحث کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زندگی بخش حسین و جمیل پیرایہ میں دیکھیے۔آپ فرماتے ہیں: انبیاء کے واقعات عمری اور ان کی سلامت روشی ایسی بدیہی اور ثابت ہے کہ اگر سب باتوں کو چھوڑ کر ان کے واقعات کو ہی دیکھا جائے تو ان کی صداقت ان کے واقعات سے ہی روشن ہورہی ہے مثلاً اگر کوئی منصف اور عاقل ان تمام براہین اور دلائل صدق نبوت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اس کتاب میں لکھی جائیں گی قطع نظر کر کے محض ان کے حالات پر ہی غور کرے تو بلا شبہ انہیں حالات پر غور کرنے سے اُن کے نبی صادق ہونے پر دل سے یقین کرے گا اور کیونکر یقین نہ کرے وہ واقعات ہی ایسے کمال سچائی اور صفائی سے معطر ہیں کہ حق کے طالبوں کے دل بلا اختیار ان کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔خیال کرنا چاہیے کہ کسی استقلال سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دعویٰ نبوت پر با وجود پیدا ہو جانے ہزاروں خطرات اور کھڑے ہو جانے لاکھوں معاندوں اور مزاحموں اور ڈرانے والوں کے اول سے اخیر دم تک ثابت اور قائم رہے برسوں تک وہ مصیبتیں دیکھیں اور وہ دیکھ اٹھانے پڑے جو کامیابی سے بکلی مایوس کرتے تھے اور روز بروز بڑھتے جاتے تھے کہ جن پر صبر کرنے سے کسی دینوی مقصد کا حاصل ہو جانا وہم بھی نہیں گزرتا تھا بلکہ نبوت کا دعویٰ کرنے