اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 143
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 143 آپ کی آغوش میں پلا بڑھا تھا۔جس سے آپ کی محبت کا اندازہ اس طرح ہوتا تھا کہ بعد میں آپ نے اپنی محبوب بیٹی کے لیے اسے چھا۔گویا امانت کی ادائیگی اپنی اور اپنے اعزاء و اقرباء کی جانوں سے بھی زیادہ عزیز تھی۔پس اس درجہ کا امانت دار انسان جو اپنے خون کے پیاسے دشمنوں کی امانتوں کے حق بھی اُن سے بڑھ کر ادا کرنے والا تھا وہ کس طرح خدائی امانت میں خیانت کا مرتکب ہوسکتا تھا ؟ آپ کی زندگی کا یہ پہلو ہر شک کو نابود کر دینے کے لیے کافی ہے کہ اس درجہ اعلیٰ اخلاق پر فائز انسان جو ادنی ادنی معاملات میں صداقت اور دیانت کا دامن نہیں چھوڑتا اور اس کے لیے اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگانے سے نہیں ہچکچاتا ، کیسے ممکن ہے کہ الہی امانت میں خیانت کا مرتکب ہو جائے؟ ٹھہر کر غور کیجیے کہ جس دولت کو بے حیثیت قراردے کر قدم قدم پر ٹھکرایا، جب وہ امانت کے طور پر آپ کے پاس آئی تو اس قدرا ہم ہوگئی کہ اپنی جان کے خطرہ کے باوجود اس امانت کو اسکے اہل تک پہنچانے کا اہتمام کیا تو کس طرح ممکن ہے کہ جس الہی امانت کی اہمیت اپنی اور اپنے پیاروں کی جانوں کی قیمت سے بھی زیادہ تھی جس پیغام کے لیے اتنی مشکلات برداشت کیں اور اپنی جان پر کھیل کر اس کی حفاظت کی اور اپنے پیاروں کو مہیب خطروں میں ڈالا اور انکی جانیں تک اس امانت کی حفاظت کی راہ میں قربانی کے لیے پیش کر دیں، جس کے لیے دُنیا کی جاہ و حشمت اور دولت و ثروت کی قربانی دی، اس میں خیانت کے مرتکب ہو جاتے اور بعد میں کبھی رد و بدل کر دیتے؟ وہ تپتی دھوپ میں بھاری بھر کم پتھروں کے بوجھوں تلے دبے ہوئے نڈھال جانثار، پیاس اور گرمی سے مونہوں سے باہر لٹکتی زبا نہیں، وہ کوئلوں پر زندہ جلتے ، تڑپتے پیارے، وہ شہداء کے چرے ہوئے بدن، وہ انتہائی درندگی سے شہید کی گئی پردہ دار مقدس خواتین کے لاشے، یہ سب تو رد و بدل اور تحریف نہ کرا سکے۔پھر اور کون سی قیامت باقی تھی جو تحریف کا موجب ہو جاتی؟ پھر ایک مرتبہ وحی قرآن کی اشاعت ہو جانے کے بعد تو رد و بدل ہو ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ جب وحی تحریری صورت میں مشتہر ہوگئی ، حفظ کر لی گئی اور مسلمانوں میں عام ہوگئی تو پھر تو رد و بدل کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔اس وقت رد و بدل کرنا تو اس سلسلہ کی موت تھی۔یہ تمام ثبوت دیکھ کر لا ز ما یہی نتیجہ نکالتا ہے کہ رسول کریم نے قرآن کو بعینہ ویساہی ہم تک پہنچایا جیسا کہ آپ کو ملا تھا۔قاری غور کرے کہ ایک طرف دولت مل رہی ہے اور دوسری طرف انتہائی تنگ دستی اور مفلسی منہ کھولے کھڑی ہے۔ایک طرف سیادت ہے اور دوسری طرف سماجی بائیکاٹ۔یعنی ایک طرف معاشرہ آپ کو اپنے معزز ترین افراد میں شمار کر رہا ہے اور دوسری طرف آپ کو ایک ناکارہ عضو کی طرح کاٹ کر پھینک دینے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ایک طرف عزت اور مرتبہ ہے اور دوسری طرف ہر شرف سے محرومی۔ایک طرف وطن کی سرداری ہے اور دوسری طرف جلا وطنی۔ایک طرف اعلی حسب نسب کے با اختیار خاندان سے رشتہ داری اور دوسری طرف مصائب میں پھنسے ادنی غلاموں سے دنیاوی اعتبار سے بظاہر